ٹاڈا قیدی معاملہ : 32/ سالوں سے جیل میں قید شمش الدین کو سپریم کورٹ نے راحت دینے سے کیاانکار ، ہائی کورٹ رجوع ہونے کی ہدایت

جئے پور ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت، جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کی پیروی
نئی دہلی3/ مارچ2026
ٹا ڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا کاٹ رہے ایک مسلم شخص کی سزا میں تخفیف یا قبل از وقت رہائی کی درخواست کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ کہتے ہو ئے مسترد کردیا کہ عرض گذار کو سنگین الزامات کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی ہے اور سزا میں تخفیف کا اختیار ریاستی حکومت کے پاس ہے۔محمد شمش الدین نامی شخص گذشتہ 32/ سالوں سے جئے پور سینٹرل جیل میں مقید ہے۔سیشن عدالت اور سپریم کورٹ سے اسے عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔عرض گذار شمش الدین کی بہن نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی سے اس کے بھائی کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کیئے جانے کی درخواست کی تھی، شمش الدین کی بہن کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرمولانا حلیم اللہ قاسمی نے جمعیۃ علماء لیگل سیل کے وکلاء کو ہدایت دی تھی کہ شمش الدین کی جیل سے رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں کوشش کی جائے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے ایڈوکیٹ مجاہد احمد کی معاونت سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی تھی جس پر گذشتہ جمعہ کو سماعت عمل میں آئی۔
سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کو سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے بتایا کہ عرض گذار گذشتہ 32/ سالوں سے جیل میں مقید ہے نیز ملزم کی قید میں تخفیف کی درخواست کو جیل حکام اور جئے پور ہائی کورٹ نے بغیر وجہ بتائے مسترد کردیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ سزا میں تخفیف کرنے والی راجستھان صوبے کی پالیسی امتیاز ی ہے، پنجاب اور دہلی حکومتوں نے ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کو قبل از وقت رہا کیا ہے۔یہ پالیسی تمام قیدیوں کے لیئے یکساں نہیں ہے جبکہ یہ قانون کا تقاضہ ہے پالیسی تمام قیدیوں کے لیئے یکساں ہونی چاہئے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرض گذار کا تعلق کرناٹک کے گلبرگہ شہر سے سے ہے اور کرناٹک حکومت نے عرض گذار کے خلاف کوئی منفی رپورٹ نہیں دی ہے اور نا ہی جیل حکام کی عرض گذار کے خلاف کوئی شکایت ہے لہذا شمش الدین کی عمر قید کی سزا میں تخفیف کی جائے۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ60/ سالہ شمش الدین ماضی میں متعد د مرتبہ پیرول پر رہا ہوچکا ہے اور پیرول رہائی ہونے کے بعد وقت مقررہ پر اس نے جیل میں سرینڈر کیا ہے لہذا اس کے خلاف ایسی کوئی بھی رپورٹ نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس کی سزا میں تخفیف نہیں کی جاسکتی ہے۔
سینئر ایڈوکٹ گورو اگروال کے دلائل سماعت کرنے بعد جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی ہے۔ عرض گذار کو راجستھان حکومت کی پالیسی کو چیلنج کرنا چاہئے جس پالیسی کے تحت اس کی سزا میں تخفیف نہیں کی جارہی ہے۔ عدالت کا رخ دیکھتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے جئے پور ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے شمش الدین کو پٹیشن واپس لینے کی اجازت دے دی۔