’’وندے ماترم کی مخالفت غداری تصور کی جائے گی‘‘

تر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو یوپی کے قانون سازکونسل میں گورنر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کی بحث میں حصہ لیتے ہوئےاشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ وندے ماترم کی مخالفت کو غداری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کارروائی کی دھمکی دی ہے۔اس موقع پر انہوں نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے حق میں بیان بازی یا قومی علامات کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنا غداری سے کم نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ’وندے ماترم‘ کے ۱۵۰؍ سال مکمل ہو رہے ہیں اور یہ ہندوستان کی آن، بان اور شان کی علامت ہے ،اسلئے قومی نغمہ، ترنگا، قومی ترانہ اور قومی ہیروز کا احترام ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔

وزیر اعلیٰ یوگی نے گورنر کے خطبہ استقبالیہ پر تحریک تشکر کی بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پرسخت تنقید کی اور کہا کہ حملہ آوروں کا ’مہیمامنڈن‘ اور قومی علامات جیسے ترنگا، قومی ترانہ، قومی نغمہ اور عظیم شخصیات کی توہین دراصل آئین کی خلاف ورزی ہے اور ایسے طرزِ عمل کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک اور ریاست اپنی عظیم وراثت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور وراثت سے جڑی ترقی ہی روشن مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہندوستان کی روح پر حملہ کیا اور اس کی آستھا کو کچلا، اگر کوئی سیاسی مفاد کیلئےان حملہ آوروں کابڑائی بیان کرے تو نیا ہندوستان اور نیا اتر پردیش اسے ہرگز قبول نہیں کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے گورنر کے ساتھ اپوزیشن کے مبینہ غیر مہذب رویے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ گورنر ریاست کا آئینی سربراہ ہوتا ہے اور اس عہدے کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ ان کے مطابق ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف جمہوری اقدار کمزور ہوتی ہیں بلکہ آئینی اداروں کی توہین بھی ہوتی ہے۔

یوگی نے کہا کہ گزشتہ ۹؍ برسوں میں ان کی حکومت کی واضح پالیسی، صاف نیت اور فیصلہ کن قیادت نے انتظامیہ کی سمت بدل دی ہے۔ ریاست ’ فیئر زون‘ سے ’فیتھ زون‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ۲۰۱۷ء کے بعد سے صوبے میں کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور اب حالات یہ ہیں کہ ’نہ کرفیو ہے، نہ دنگا ہے، بلکہ یوپی میں سب چنگا ہے۔‘ 

انہوں نے پولیس اور قانون و انتظامیہ کی صورتحال پر بھی حکومت کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو تحفظ اور تاجروں کو بے خوف ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں۲ء۱۹؍ لاکھ سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی گئی، جن میں ۲۰؍ فیصد ریزرویشن خواتین کے لئے یقینی بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن حکومت کی پالیسیوں کے باعث اتر پردیش آج سرمایہ کاری، اختراع اور شفافیت کا ماڈل بن چکا ہے۔

 دھارمک سبھاؤں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پریاگ راج میں منعقدہ مہاکمبھ میں  ۶۶؍ کروڑ سے زائد عقیدت مندوں کی شرکت اور ماگھ میلہ میں ریکارڈ حاضری عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ مہاشیوراتری کے موقع پر بھی لاکھوں افراد نے تروینی سنگم میں اسنان کیا، جو بہتر انتظامات اورسیکوریٹی پر عوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی شناخت اب دیپوتسو، دیو دیپاولی اور رنگوتسو جیسے ثقافتی و مذہبی پروگراموں سے جڑی ہے، جنہوں نے ریاست کو عالمی سطح پر نئی پہچان دی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ’ہندوستان میں بھارت کی آستھا کو کوئی قید نہیں کر سکتا‘ اور آج ریاست قانون کی حکمرانی اور خود اعتمادی کی نئی مثال بن چکی ہے۔

خیال رہے کہ یوگی آدتیہ پر شروع  ہی سے ایک  ریاست کےوزیراعلیٰ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہندوتوا وادی لیڈر   کے طور پر کام کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔