مسلم تاجرکی ایمانداری، لاکھوں کے زیورات مالک کو لوٹا دئیے

یہاں اسکریپ کاروبار سے وابستہ ایک مسلم تاجر نے غلطی سے بھنگار میں  آنے والے سونے کے زیوراس کے مالک کو لوٹاکر ایمانداری کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ایل آئی سی ایجنٹ اشوک شرما مہاکمبھ میں  جانے سے قبل گھر میں رکھے سونے کے زیورات سے بھرا ڈبہ کباڑ کے بورے میں چھپا کر بھول گئے۔ دیوالی سے قبل صفائی کے دوران یہ بورا کباڑی کو بیچ دیا گیا جو اسکریپ تاجر حاجی اختر کے پاس پہنچ گیا۔ جب گھر میں پوجا کی تیاری ہوئی تو سونے کے زیورات کی تلاش شروع ہوئی، مگر مایوسی ہاتھ لگی۔ 

قابل ذکر ہے کہ اسکریپ تاجر حاجی اختر جب اپنا کباڑ تھوک میں فروخت کرنے کے لیے ٹرک میں مال لوڈ کروا رہے تھے تو ڈبہ سامنے آ گیا۔ تقریباً۱۵؍لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات سے بھرا ڈبہ اسکریپ تاجر نے اس کے اصل مالک تک پہنچا کر ایل آئی سی ایجنٹ کے خاندان کی خوشیاں واپس لوٹا دیں۔ اشوک شرما جنوری۲۰۲۵ء میں خاندان کے ساتھ الٰہ آباد میں منعقد ہونے والے مہاکمبھ میلے میں گئے تھے۔ بند گھر میں چوری سے بچنے کے لیے انہوں نے تقریباً۱۰۰؍ گرام سونے کے زیورایک پرانے ڈبے میں بند کر کے کباڑ کے بورے میں چھپا دئیے۔ اشوک کا خیال تھا کہ اگر چور گھر میں آئیں گے تو کباڑ کی طرف دھیان نہیں دیں گے۔ تاہم کمبھ سے واپس آنے کے بعد وہ زیورات کے بارے میں بھول گئے۔ دیوالی کی صفائی کے دوران اشوک نے وہی کباڑ سے بھرا بورا اسکریپ تاجر حاجی اختر کو فروخت کر دیا۔ اختر نے تولنے کے بعد کباڑ کو دیگر سامان کیساتھ رکھ دیا۔ اشوک شرما کے مطابق دیوالی پر جب لکشمی پوجا کی تیاری ہو رہی تھی تو انہیں خیال آیا کہ زیورات تو کباڑ کے بورے میں رکھے تھے اور وہ بورا بیچ دیا گیا ہے۔ وہ فوراً حاجی اختر کے پاس پہنچے اور ساری بات بتائی۔ اختر نے گودام میں کافی تلاش کیا، لیکن زیور کا ڈبہ نہیں ملا۔ ۲؍ دن پہلے جب حاجی اختر کباڑ ٹرک میں لوڈ کروا رہے تھے تو انہیں ایک ڈبے میں کچھ ہونے کی آواز آئی۔ جب ڈبہ کھولا تو اس میں سونے کے زیور موجود تھے۔ انہیں اشوک کی یاد آئی جو چار ماہ قبل اپنے زیورات کی تلاش میں ان کے پاس آئے تھے۔ حاجی اختر نے اشوک کے دیے ہوئے موبائل نمبر پر رابطہ کیا اور ڈبہ ملنے کی اطلاع دی۔ اے سی پی بلّبھ گڑھ جتییش ملہوترا کی موجودگی میں حاجی اختر نے اشوک شرما اور ان کی اہلیہ کو زیورات واپس سونپ دیے۔ اے سی پی نے کہا کہ حاجی اختر کی ایمانداری قابلِ تعریف ہے۔ ۱۵؍ لاکھ روپے کا مال دیکھ کر بھی ان کی نیت میں  کھوٹ نہیں آیا۔ حاجی اختر نے کہاکہ ’’میں پانچ دہائی پہلے اس شہر میں خالی ہاتھ آیا تھا۔ اللہ کی رحمت اور اپنی محنت و ایمانداری کے بل پر آج میرے پاس سب کچھ ہے۔ ‘‘