الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش کے ضلع سنبھل کے ایک شخص کی جانب سے دائر کردہ اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں اس نے اپنی مبینہ نجی زمین پر نماز ادا کرنے کی اجازت اور سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مذہبی آزادی کا حق پبلک آرڈر (عوامی نظم و ضبط) کے تابع ہے اور اسے اس طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے دوسروں کے حقوق متاثر ہوں یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو۔
جسٹس سرل شریواستو اور جسٹس گریما پرساد پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت ملنے والی مذہبی آزادی لامحدود نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ نجی جائیداد پر ذاتی عبادت ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اسے باقاعدہ منظم مذہبی اجتماع یا عوامی عبادت گاہ کی شکل دینا ریاست کے ضوابط سے باہر نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی سرگرمی کے عوامی نتائج برآمد ہوتے ہیں تو حکومت کو مداخلت اور اسے ریگولیٹ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
یہ معاملہ سنبھل کے گنور علاقے کے گاؤں ایکونا کا ہے، جہاں اسین نامی شخص نے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دینے کی اپیل کی تھی کہ اسے اس کی زمین پر نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے۔ درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اسے جون 2023 میں ایک ‘گفٹ ڈیڈ’ کے ذریعے ملی تھی اور حکام اسے وہاں عبادت سے روک کر اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسین کے وکیل نے عدالت کے کچھ پرانے احکامات کا حوالہ بھی دیا جن میں کہا گیا تھا کہ نجی جگہ پر عبادت کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
دوسری جانب اتر پردیش حکومت نے اس دعوے کی سخت مخالفت کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ زمین سرکاری ریکارڈ میں ‘آبادی کی زمین’ کے طور پر درج ہے، جو عوامی استعمال کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ درخواست گزار کے پاس زمین کی ملکیت کے قانونی کاغذات مکمل نہیں ہیں۔ مزید برآں، حکومت کا موقف تھا کہ وہاں روایتی طور پر صرف عید کے موقع پر نماز ادا کی جاتی رہی ہے جس پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن درخواست گزار اب گاؤں اور باہر کے لوگوں کو بلا کر بڑے پیمانے پر باقاعدہ باجماعت نماز کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے جس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ قانون حکام کو کسی اصل ہنگامے کا انتظار کرنے پر مجبور نہیں کرتا، بلکہ انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کر سکتی ہے۔ بنچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ریکارڈ کے مطابق یہ زمین عوامی نوعیت کی ہے اور کسی بھی فرد کو عوامی زمین پر مستقل مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے عوامی مفاد اور سماجی ہم آہنگی کا حوالہ دیتے ہوئے عرضی گزار کو کوئی بھی ریلیف دینے سے انکار کر دیا اور درخواست خارج کر دی۔


