مہاراشٹر میں کانگریس /این سی پی کے دورِ اقتدار میں ۲۰۱۴ء میں پسماندہ مسلمانوں کوتعلیم میں ۵؍ فیصد ریزرویشن (اسپیشل پسماندہ جماعت۔ ایس بی سی) دینے کا جو آرڈیننس جاری کیا گیاتھا، اسے بی جے پی کی قیادت والی مہا یوتی حکومت نے باقاعدہ رد کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ آرڈیننس پہلے ہی بے اثر ہو چکا تھا لیکن اب فرنویس حکومت نے اسے پوری طرح سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ پر کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ایم آئی ایم نے شدید تنقیدیں کی ہیں۔
اقلیتی برادری کو ترقی سے دور رکھنے کی کوشش: نسیم خان
مسلم ریزرویشن کے جی آر کو منسوخ کرنے پر کانگریس اوراین سی پی کی حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر رہ چکے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن محمد عارف نسیم خان نے سخت انداز میںکہا کہ ریاست کی فرنویس حکومت کی طرف سے مسلم کمیونٹی کو دیئے گئے ۵؍فیصد تعلیمی ریزرویشن کو منسوخ کرنے کا فیصلہ انتہائی غلط اور اقلیتی برادری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ہم اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہیں ۔ اس ریزرویشن کو منسوخ کرکے بی جےپی حکومت نے اقلیتی برادری کو ترقی کرنے روکنے کا گناہ کیا ہے ۔ تلک بھون (دادر) میں منعقدہ پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ یہ روایت رہی ہے کہ حکومت میں کابینہ میں کوئی تجویز منظور کی جاتی ہے تو اس کے بعد اس کا جی آرجاری کیا جاتا ہے اور اس جی آر کو اس کے بعد منعقد ہونےو الی اسمبلی کے اجلاس میں قانونی شکل دینے کیلئے پیش کیا جاتا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں ہماری کانگریس حکومت نے یہ آرڈیننس جاری کیاتھا لیکن اسی کےبعد ہی اقتدار تبدیل ہو گیا ۔ ناگپور میں منعقدہ اسمبلی کے اجلاس میںمَیں نے خود یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا تھا جس پر وزیر اعلیٰ فرنویس نے یقین دلایا تھا کہ اس بارے میں جانچ کرنے کے بعداس جی آر کو قانونی شکل دی جائے گی لیکن انہوں نے اسے منسوخ ہی کردیا۔ اسی لئے ہم اس مہایوتی حکومت کو مسلم اور اقلیت مخالف کہہ رہے ہیں۔
سچر کمیٹی کی سفارشات
عارف نسیم خان نے بتایا کہ کانگریس۔این سی پی حکومت نے سچر کمیٹی کی سفارشات پر ۲۰۱۴ء میںمسلمانوں کے پسماندہ طبقات کوتعلیم اور ملازمتوں میں ۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا ۔ اس آرڈیننس کو کورٹ میں بھی چیلنج کیاگیا جس پر عدالت نے نوکری میں ریزرویشن کو نامنظور کردیا تھا لیکن تعلیم میں پسماندہ مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کی حمایت کی تھی۔ یہ ریزرویشن تعلیمی سال ۱۵۔۲۰۱۴ء میں نافذ بھی کیاگیا ۔اس آرڈیننس کو اسمبلی میں قانونی شکل دی جانی چاہئے تھی لیکن فرنویس حکومت نے اس آرڈیننس پر مزید کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ عدالتی حکم پر عمل کیا۔ عارف نسیم خان نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے اقلیتی برادری کیلئےجتنی بھی اسکیمیں شروع کی تھیں ،مہایوتی حکومت میں اسے روک دیا گیا ہے۔ طلبہ کو تعلیم کیلئے اسکالرشپ دی جارہی تھی ۔اسے بھی یہ حکومت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتی برادری میں صرف مسلمان نہیں بلکہ جین، سکھ، پارسی اور دلت وغیرہ بھی آتے ہیں۔
ابو عاصم اعظمی نے کیا کہا ؟
مسلم کوٹہ کے آرڈیننس کی منسوخی سماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظی نے اسے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیدھا سا سوال یہ ہے کہ جب قانون کبھی نافذ ہی نہیں ہوا تھا تو آج اسے منسوخ کرنے کی رسم کیوں ادا کی گئی؟ اگر مقصد واقعی سماجی انصاف ہے تو اس نامکمل کام کو مضبوط قانونی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری تھا۔ ابو عاصم اعظمی کے مطابق بامبے ہائی کورٹ نے تعلیم میںاسکولوں اور کالجوں میں داخلہ کیلئے ۵؍فیصد مسلم ریزورویشن کو مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر برقرار رکھا تھا لیکن سرکار کی نیت صاف نہیں تھی۔سچر کمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی نے بھی مسلمانوں کی معاشی و اقتصادی بدحالی پر ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی۔
سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کے مطابق بی جے پی نے مراٹھا ریزرویشن کےلئے تو نوٹیفکیشن اور جی آر جاری کردیا لیکن مسلم ریزرویشن پر کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اب اسے منسوخ ہی کر دیا گیاہے۔انہوںنے سوال کیاکہ جس ریزرویشن پر عمل آوری ہی نہیں کی گئی اس کو منسوخ کیونکر کیا گیا ؟سماجوادی کے ریاستی صدر نے کہا کہ مہاراشٹر میں مسلمانوں کے بہت سے ایسے طبقات ہیں جو روایتی پیشوں میں مصروف ہیں جو معاشی، تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں۔ آئین کے آرٹیکل(۱۵)۴ٖٖ؍ اور (۴)۱۶؍حکومت کو سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مسلمانوں اور طبقات کیلئے خصوصی انتظامات کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اگر ضروری ہو تو، ریزرویشن کے فوائد کو ایس ای بی سی کے اندر ذیلی درجہ بندی کے ذریعے حقیقی طور پر پسماندہ طبقات تک فروغ دیا جاسکتا ہے۔ ہمیں حکومت سے ایک ٹھوس سروے، سماجیات کا مطالعہ، یا نئی پالیسی کا خاکہ پیش کرنے کی توقع تھی لیکن اس کے بجائےکوٹہ ہی منسوخ کردیا گیا ۔ انہوں نے کانگریس پر بھی الزام لگایا کہ اس پارٹی نے محض مسلمانوں کی خوشنودی کیلئے اس کوٹہ کا اعلان کیا تھا ۔ اس کا اصل مقصداگر ریزرویشن دینا ہی ہوتا تووہ اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ایسا کرتے آخری دنوں میں نہیں۔ ایم آئی ایم مہاراشٹر کے صدر امتیاز جلیل نے فرنویس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئےکہا کہ ہمیں بی جے پی حکومت سے یہی توقع تھی کہ وہ مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دے گی۔ ہم نے مراٹھا ریزرویشن کیلئے اپنی حمایت دی تھی ۔ہمارا یہی موقف ہے کہ سماج کے جوبھی شہری مالی طور پر کمزور ہیں اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ریزرویشن ملنا چاہئے چاہے وہ مراٹھا سماج ہو، برہمن یا مسلم سماج ۔انہوںنے مزید کہا کہ اب مسلمانوں کے بااثر طبقے اور علماء کو مسلم ریزرویشن کو حاصل کرنے کیلئے میدان میں اترنا ہوگا کیوں کہ جب وہ الیکشن کیلئے کسی کی حمایت کا اعلان کرسکتے ہیں تو پھر انہیں اس اہم معاملے میں بھی آواز اٹھانی چاہئے اور دبائو بنانا چاہئے ۔ہم ہمیشہ ان کےساتھ کھڑے رہیں گے ۔انہوں نے یاد دلایا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے مراٹھا برادری کی ریزرویشن تحریک کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ برہمن برادری کے تمام افراد خوشحال نہیں ہیں، ان میں سے کئی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کے لیے بھی ریزرویشن کی حمایت کرتے ہیں، اور یہی سماجی و معاشی حالات مسلم برادری کے بعض طبقات پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریزرویشن کا تعین آمدنی اور معاشی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
