بنگلور، 17؍ فروری (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان’’ جلسۂ استقبال رمضان‘‘ سے مرکز کے سرپرست مفتی افتخار احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک) نے نہایت مؤثر اور جامع خطاب کرتے ہوئے رمضان المبارک کی عظمت، فضیلت اور اس کے پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رمضان المبارک سال بھر کے تمام اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، برکتوں اور فضیلتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اپنی رضا، محبت، عطا، ضمانت، اُلفت اور انواراتِ خاصہ سے نوازتے ہیں۔ اس مہینے میں ہر نیک عمل کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، ایک نیکی فرض کے برابر اور ایک فرض ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے، جبکہ شب قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں روزہ فرض اور تراویح کو نفل قرار دیا گیا ہے، نیز اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو نازل فرمایا، جو انسانیت کے لیے ہدایت، رہنمائی اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کا معیار ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ رمضان کا اصل مقصد حصولِ تقویٰ ہے اور یہ عبادت و ریاضت کا مہینہ ہے، لہٰذا رمضان سے قبل ہی عبادات کا ایک جامع عملی نظام مرتب کیا جائے، غیر ضروری مصروفیات کو ترک کر کے زیادہ سے زیادہ وقت عبادت و بندگی میں گزارا جائے اور اللہ کے حکم کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا جائے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آج بعض لوگ رمضان المبارک پانے کے باوجود اس کی قدر نہیں کرتے، حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص رمضان پانے کے باوجود اس کی قدر نہ کرے، اس کے لیے ہلاکت کی وعید ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان المبارک کا مکمل احترام کریں اور اپنے قیمتی اوقات عبادت، تلاوت، ذکر و اذکار اور ریاضت میں صرف کریں۔مولانا قاسمی نے ائمہ وخطباء کرام سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک میں اپنے خطابات اور بیانات کے ذریعے اسلام کے بنیادی عقائد کو عام کریں، نت نئے فتنوں سے امت کو باخبر کریں، عقیدۂ ختم نبوت، قیامت کی علامات اور عظمت صحابہؓ کو واضح طور پر بیان کریں تاکہ امت کا ایمان محفوظ رہے اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے حفاظت ممکن ہو۔اس موقع پر مفتی افتخار احمد قاسمی نے ذمہ دارانِ مساجد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مقدس مہینے کے تقدس، نظم و ضبط اور دینی و سماجی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مساجد کے تمام انتظامی، قانونی اور عملی امور کو منظم کریں، خصوصاً مساجد و مدارس کے دستاویزات کو مکمل اور قانونی تقاضوں کے مطابق درست رکھیں، متفقہ اوقاتِ سحری و افطاری کے چارٹ پر سختی سے عمل کروائیں اور انفرادی چارٹس کے ذریعے انتشار سے بچیں، مائک کے استعمال میں قانون اور حکمت کو ملحوظ رکھیں، اذان کے علاوہ مینار والے مائک سے گریز کریں، گنجی اور افطاری کی تقسیم، پھل کی گاڑیوں کی ترتیب، پارکنگ اور صفائی کے نظام کو مضبوط بنائیں، چپلوں کی ترتیب، افطاری میں اسراف سے اجتناب اور پاکیزگی کا خاص خیال رکھیں، مدارس کے سفراء کرام کی عزت افزائی اور ضرورت پڑنے پر قیام و سحری کا انتظام کریں، اعتکاف اور طاق راتوں میں عبادت کے لیے مناسب نظم قائم کریں اور نوجوانوں کو غیر مناسب سرگرمیوں سے روکیں، عید کی رات غیر محرم سے مہندی لگوانے جیسی بے حیائی پر مبنی رسومات کے سدباب کی کوشش کریں، رمضان کو غیر مسلم برادرانِ وطن کے سامنے اسلام کے تعارف اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بناتے ہوئے انہیں افطار کی دعوت دی، اور حتی المقدور عید الفطر کی نماز عیدگاہ میں ادا کرنے کا اہتمام کریں۔ ان امو ر کے کرنے سے مساجد سے نظم، پاکیزگی، اتحاد، خیر خواہی اور اسلام کی خوبصورت تعلیمات کا عملی پیغام عام ہوگا اور رمضان المبارک کو عبادت، تقویٰ، حسن اخلاق اور دعوت دین کا جامع نمونہ بنایا جا سکے گا۔آخر میں مفتی افتخار احمد قاسمی نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کی حقیقی قدر کریں، اس کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی زندگیوں کو تقویٰ و پرہیزگاری کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر مفتی افتخار احمد قاسمی نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور انہیں کی دعا پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
