مغربی بنگال میں انتخابی سرگرمیاں آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہیں اور ووٹنگ کی تیاریاں ہورہی ہیں وہیں ریاست کے درگاپور میں بی جے پی کارکنوں کے دریعہ نصف شب میں تھانے پر دھاوا بول کر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی وجہ سے کشیدگی پھیل گئی ہے۔ منگل کی رات دیر گئے کوکووان پولیس اسٹیشن کے باہر صورتحال اس وقت خراب ہو گئی جب بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنوں اور حامیوں نے تھانے پر دھاوا بول دیا۔ ہنگامہ اتنا پرتشدد تھا کہ کارکنوں نے زبردستی گیٹ کو دھکا دے کرتھانے کے اندر گھسنے کی کوشش کی جسے روکنے کے لیے پولیس کو کافی مشقت کرنا پڑی۔ حالات خراب ہوتے دیکھ کر انتظامیہ کو فوری طور پر مرکزی فورسز تعینات کرنا پڑا۔
ہنگامے کی شروعات بی جے پی کارکنوں کی گرفتاری پر ہوئی۔ درگاپور ویسٹ سے بی جے پی امیدوار لکشمن چندر گھوڈوئی کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کو گھیر لیا۔ کارکنان زمین پر بیٹھ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ اس ہنگامے کی وجہ سے پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ پولیس حکمراں پارٹی کے دباؤ میں یکطرفہ طور پر کام کر رہی ہے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے ہنگامے کے دوران پولیس افسر وجے دلپتی کو بھی مظاہرین کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
پورے تنازعہ کی جڑ اتوار کی رات بانکوڑا کراسنگ پر بھڑکنے والے تشدد میں چھپی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان پرانی رنجش پر پرتشدد تصادم ہوا تھا۔ تشدد میں دونوں فریق کے ارکان شدید زخمی ہوئے اور فی الحال اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی اور منگل کو دونوں گروپوں کے تین افراد کو گرفتار کرلیا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس کے بے گناہ کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔
اس واردات کو لے کر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی امیدوار لکشمن چندر گھوڈوئی نے سخت تیور دکھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا گیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں ان کے گھروں پر حملہ کیا گیا، ہمارے لوگ اسپتال میں ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کر رہی ہے۔ ہم اس ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے۔



