بسوا شرما کی مسلمانوں کے خلاف متنازع ویڈیو : سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار ، ہائی کورٹ جانے کی ہدایت

 سپریم کورٹ  نے پیر کو  آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف داخل کی گئی اُس پٹیشن پر سماعت سے انکار کردیا جس میں مسلمانوں کو گولی مارنے والے متنازع ویڈیو  کے معاملے میں کارروائی کی مانگ کی گئی تھی۔ چیف جسٹس  سوریہ کانت،جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور وپول ایم پنچولی کی بنچ نے درخواست گزاروں کو گوہاٹی ہائی کورٹ سےرجوع ی کی ہدایت دی۔ عدالت نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو  بھی ہدایت دی کہ وہ  معاملے کوتیزی سے نمٹائیں۔ 

عدالت نے عرضی گزاروں کے براہ راست سپریم کورٹ پہنچنے پر برہمی کااظہار بھی کیا۔ بنچ نے  سوال کیا کہ ’’آپ گوہاٹی ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ اُس  کے اختیار کو کم تر نہ آنکیں… ہم فریقین سے کہیں گے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور آئینی حدود کا خیال رکھیں لیکن   یہ الیکشن سے پہلے کا معمول بنتا جارہا ہے ۔ یہ پریشان کن ہے کہ ہر معاملہ  بالآخر یہاں(سپریم کورٹ) آ جاتا ہے۔ ‘‘ اس سے قبل سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے بنچ سے استدعا کی کہ شرما’’عادی مجرم‘‘ہیں  اسلئے سپریم کورٹ کو  اس معاملے کوسننا چاہئے۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن  سی پی آئی لیڈر اینی راجا اور سی پی ایم کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ انہوں نے  اقلیتوں  کے خلاف زہر افشانی کی پاداش میں ہیمنت بسوا شرما کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ کیا ہے اور جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی مانگ کی ہے۔

 بسواشرما کے جس ویڈیو کاحوالہ دیاگیا ہے  وہ اے آئی سے بنایاگیا ہے اورا س میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ ویڈیو بی جےپی کی آسام اکائی نے پوسٹ کیاتھا مگر ہنگامہ کے بعد چند گھنٹوں میں ہی اسے ہٹالیاگیاتھا۔ ہیمنت بسوا شرما آسام میں بنگالی بولنےوالے مسلمانوں  کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی کرتے رہتے ہیں۔ وہ انہیں تحقیر آمیز لہجے میں ’’میاں مسلمان‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور آسام کے شہریوں کو انہیں  پریشان  کرنے پر اُکساتے ہیں۔