امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبہ کو ایران نے مسترد کردیا،چین کا مشورہ


امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے نے جہاں سفارتی سرگرمیوں کو تیز کیا ہے، وہیں اس منصوبے پر ماضی کی امریکی پالیسیوں کے تناظر میں سنجیدہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائے گئے اس منصوبے کو امریکہ ایک عملی راستہ قرار دے رہا ہے، تاہم ایران نے اسے مسترد کرتے ہوئے اسے دباؤ کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے، جبکہ چین نے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا ہے، مگر ماضی میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے معاہدوں سے پیچھے ہٹنے کے واقعات اس پیشکش کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ ہونے والے سابقہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو آج بھی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے اعتماد کی فضا کو شدید متاثر کیا تھا۔

پاکستان نے اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام ایران تک پہنچایا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم سفارتی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا یہ واقعی امن کی سنجیدہ کوشش ہے یا ایک بار پھر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی۔ پاکستانی حکام نے اس پر محتاط ردعمل دیا ہے، لیکن پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔

ایرانی فوج اور حکام نے اس منصوبے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں۔ تہران نے واضح کیا کہ ماضی کے تجربات کے بعد امریکہ پر اعتماد کرنا آسان نہیں رہا اور جنگ کے دوران اس طرح کی پیشکشیں قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور پالیسیوں پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

چین نے اس صورتحال میں ایک متوازن موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کو بات چیت کا راستہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، تاہم اس نے بھی بالواسطہ طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اعتماد کی بحالی کے بغیر کوئی بھی معاہدہ پائیدار نہیں ہو سکتا۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کی خارجہ پالیسی پر ماضی میں بھی کئی بار سوالات اٹھتے رہے ہیں، جہاں معاہدوں سے انحراف اور پابندیوں کے استعمال کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ امن منصوبہ بھی شکوک و شبہات کی زد میں ہے اور ایران سمیت کئی حلقے اسے محتاط نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں توانائی کی منڈی، معیشت اور خطے کا امن براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر اعتماد کی کمی اس بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آ رہی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ بظاہر جنگ کے خاتمے کی کوشش ہے، لیکن ماضی کی پالیسیوں کے باعث اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان برقرار ہے، جس کی وجہ سے اس تنازع کا حل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔