الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو بریلی کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)اونیش سنگھ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انوراگ آریہ کو محمد گنج گاؤں میں ایک نجی رہائش گاہ کے اندر مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نجی احاطے میں نماز کی اجازت دینے والا اس کا سابقہ فیصلہ ابتدائی طور پر موجودہ معاملے پر بھی نافذ ہوتا ہے۔جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی بنچ نے۱۲؍ فروری کو عدالتوں کی توہین ایکٹ۱۹۷۱ء کے تحت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے درخواست گزار طارق خان کے خلاف کسی بھی جبری کارروائی پر روک لگا دی اور دونوں افسران سے جواب طلب کیا۔تاہم اس معاملے کی سماعت ۱۱؍ مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ تنازع۱۶؍ جنوری سے شروع ہوا، جب مرحوم حسین خان کے غیر آباد مکان میں نماز ادا کرنے کے بعد مسلمانوں کے ایک گروپ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ ریشمہ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اجتماع کی اجازت دی تھی اور نماز ان کی نجی جائیداد تک محدود تھی۔درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ کے مارانہ فل گوسپیل منسٹریز بمقابلہ ریاست یوپی والے فیصلے پر انحصار کیا، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ افراد بغیر پیشگی اجازت کے نجی احاطے میں عبادت کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اجتماع عوامی مقامات تک نہ پھیلے۔ طارق خان کا کہنا تھا کہ عدالت کا پہلے والا فیصلہ، اگرچہ عیسائی عبادت کے معاملے میں آیا تھا، لیکن اس کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بھی ایک اقلیت ہیں، اور وہی تحفظ ہمارے معاملے میں بھی نافذ ہونا چاہیے۔ ‘‘
دریں اثناء عدالتی عمل جاری رہنے کے باوجود، وشارت گنج تھانے کے علاقے محمد گنج گاؤں میں تناؤ پھر سے پیدا ہو گیا ہے۔ سنیچر کو، ہندو مکینوں کا ایک گروپ اس رہائش گاہ کے باہر جمع ہوا جہاں نماز ادا کی جا رہی تھی، انہوں نے جے شری رام کے نعرے لگائے اور وہاں نماز پر اعتراض کیا۔ہندو خاندانوں نے انتظامیہ پربے عملی کا الزام لگاتے ہوئے اپنے گھروں کے باہر ’’یہ مکان فروخت کے لیے ہے، ‘‘کے پوسٹر لگا دیے ہیں۔ جبکہ کچھ باشندوں نے اپنے دروازوں پر یہ پیغام لکھ دیا ہے کہ اگر نماز جاری رہی تو وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ایک مقامی باشندے کم کشور نے کہا، ’’انہوں نے بغیر اجازت دوبارہ نماز شروع کر دی ہے۔ ہم نے پولیس سے شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ نماز مسجد میں کیوں نہیں پڑھی جاتی؟ جبکہ گاؤں میں فی الحال نہ مسجد ہے نہ مندر۔
تاہم، مسلمانوں کا کہنا ہے کہ نماز قانونی طور پر نجی جائیداد پر اور ہائی کورٹ کے دیے گئے تحفظ کے تحت ادا کی جا رہی ہے۔ گھر کے اندر نماز پڑھنا کب سے جرم ہو گیا؟دریں اثناء پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی کو بھی امن عامہ میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
