از: محمد عطاء الرحمن القاسمی،کڈیکل،شیموگہ
ٹھیک قمری گیارہ مہینوں کے گزرجانے کے بعد پوری آب وتاب کے ساتھ رحمت ، مغفرت اور نجات کاسامان لئے ہوئے دنیا کے افق پر ماہِ رمضان المبارک جلوہ افروز ہونے جارہاہے ، دنیا کے تمام مؤمنوں اور مسلمانوں کیلئے یہ ماہ مبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا انعام و اکرام ہے۔ امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ السلام پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل وکرم یہ ہیکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دنوں میں سے ایک دن سیّد الایام بنایا یعنی سات دنوں میں جمعہ کے دن کو اور دنوں کے مقابلے میں بڑی خصوصیت بخشی نمازِ جمعہ کو اس دن مخصوص شکل میں دو خطبوں کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرمایا ،یوم الجمعہ کو مؤمنین کے حق میں یوم العید قرار دیا ، یہاں تک کہ جمعہ کے دن جس بندئہ مؤمن کی وفات ہوجائے تو بندئہ مؤمن کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، اس دن درودِ پاک کے پڑھنے کی بڑی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں وغیرہ وغیرہ ،اسی طرح عیدین کو بھی ا للہ تعالیٰ نے مومنوں کے حق میں بڑے انعام کی شکل میں عطا کیا ہے۔ایسی طریقہ پر اللہ نے راتوں میں سے بعض راتوں کو اس امت کیلئے بڑے شرف وفضیلت ، سراپا رحمت و سامانِ مغفرت کے طورپر عطا کیا ہے ، جیسے شعبان کی پندرھویں رات جس کو ہم لیلۃ البراۃیا شبِ برات کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس رات کی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں، جس رات میں دنیا میں پیدا ہونے والے اور دنیا سے رخصت ہونے والوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے ، سال بھر کا رزق تمام بندوں کو تقسیم کردیا جاتاہے خوشی وغمی کے فیصلے کئے جاتے ہیں،پھر دوسری رات شبِ قدر اس امت کو بڑی خصوصیت کے ساتھ عطا کی گئی ہے ، یہ نزولِ قرآن کی رات ہے ، اس رات میں جو فیصلے شبِ برات میں کئے گئے تھے اس شبِ قدر سے ان فیصلوں کو نافذ ولاگو کیاجاتاہے ، اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نازل ہوکر اپنے بندوں سے کہتے ہیں کہ اے مؤمنو! مجھ سے جومانگنا ہو مانگو ، میں عطا کرنے کیلئے تیار ہوں ، مغفرت طلب کرناہو ، رزق کیلئے اور رزق میں برکت کیلئے درخواست کرناہو ، صحت وعافیت مطلوب ہو تو اس کی درخواست بھی کرناہو تو اس رات میں کرلو یا اپنی زندگی طویل چاہتے ہوتو اس کی بھی میرے سامنے دعا کرو اور گڑ گڑاؤ میں تمہارے ہر جائز مطالبے کو پورا کروں گا ،اس شبِ قدر کی سب سے ممتاز وبے مثال خصوصیت یہ ہیکہ جس بندئہ مؤمن نے اس رات کو حاصل کرلیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز رہا ، خدا کی وحدانیت و ربّانیت کے گن گایا ، تلاوتِ قرآن میں ساری رات منہمک رہا، نوافل و اعمالِ سنن کو اداکیا ، ربّ کے حضور توبہ واستغفار اور خدا کی طرف رجعت وانابت کا اظہار خلوصِ دل سے کیا تو ایسے بندئہ مؤمن کی اس ایک رات کی عبادت کو۸۳؍سال کی مدت عبادت کرنے کے برابر اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں، جبکہ آج کل۳ ۸؍برس عمر بھی مکمل نہیں ہوتی مگر شاذ ونادر کسی بندے کی عمر لمبی ہوجائے تو اسی طرح سال کے بارہ مہینوں میں اللہ نے اس ماہ رمضان کو ہمارے لئے بہت بہت مبارک و مقدس مہینے کے طور پر عطا کیا ہے یہ محض جناب رسول اکرم ﷺکے صدقے وطفیل میں اس امتِ محمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بے پایاں رحمتوں، فضیلتوں برکتوں اور سعادتوں کو مقدّر فرمادیا ہے ، جتنا بھی ہم خدا کے حضور حمد و شکر بجالائیں کم ہی ہے۔تو اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ ہر ایک عمل کے بدلے اس پر مرتب ہونے والے اجر و ثواب میں اضافہ فرماتے ہیں ، ہر فرض نماز ستّر نمازوں کے برابر کردی جاتی ہے ، یعنی اس ماہ مبارک میں ایک بندئہ مؤمن فرض نماز ادا کرتاہے تو وہ فرض نماز عام دنوں کے ستّر فرض نمازوں کو ادا کرنے کے برابر ہے اور اللہ تعالیٰ ستر نمازوں کا اجر عطا فرماتے ہیں ، اسی طرح ہر نیکی کا اجر اضافے کے ساتھ اللہ تعالیٰ عنایت فرمائیں گے۔
قرآن اور ماہِ رمضان :۔
سورئہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی خصوصت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ” رمضان المبارک کا وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ” الآیہ، قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب جو آسمانی کتابوں میں سب سے اہم اور خصوصی امتیاز کی حامل ہے ، جسکی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے ، دوسری آسمانی کتابیں جیسے زبور ، تورات اور انجیل بھی ہیں مگر ان کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہیں لی ، یہی وجہ ہیکہ آج یہ تینوں کتابیں اور دیگر آسمانی صحیفے جو دیگر انبیاء کرام پر نازل کئے گئے سب کے سب غیر محفوظ ہیں، صحیفے چھوٹی چھوٹی کتابوں کو کہاجاتاہے اور آسمانی کتابیں جو مشہور ہیں وہ چار ہیں جو مشہور چار رسولوں پر نازل کی گئی ہیں ، (1)زبور جو نبی اور رسول حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی( 2 )تورات جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی ، جو خدا کے پیغمبر اور رسول بھی تھے ،( 3 ) انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی جو خداکے نبی اور رسول تھے ، ( 4 ) قرآن کریم سب سے آخری نبی ورسول خاتم النبیین وامام النبیین حضرت محمد بن عبد اللہ بن عبد المطّلب پر نازل کی گئی ، آسمانی ہزاروں صحیفوں کی طرح ، زبور ، تورات اور انجیل جو بڑی کتابیں شمار کی جاتی تھیں یہ بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ بس قرآن کریم آج بھی حرف بہ حرف، لفظ بہ لفظ مکمل محفوظ ہے ، یہی وجہ ہیکہ آج قرآن کریم پر ایمان رکھنے اور اس کو آخری خدا کی محفوظ کتاب ہونے کا یقین رکھنے والوں کا دین محفوظ ہے ، چونکہ قرآن قیامت تک محفوظ ہے تو قرآن پر ایمان رکھنے والوں کا دین بھی قیامت تک محفوظ رہیگا ، اس لئے کہ جب اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ قیامت تک خود لیا ہے تو اس پر ایمان رکھنے والوں، اس قرآن کو اپنا بنیادی دستور تصور کرنے والوں ، قرآن کریم کو اپنی ہدایت کا ذریعہ سمجھنے والوں اور قرآن کریم کو سامنے رکھ کر دنیا وآخرت کو بنانے والوں کو بھی قیامت تک اپنی حفاظت و ضمانت کا پروانہ دے چکا ہے ، دنیا کے دہریئے اور بے ایمان بھیڑیئے، صیہونی، صلیبی، یہودی ، عیسائی اور شیطانی طاقتیں قرآن کریم کا اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں ، یہ خود اپنی موت آپ مرجائیں گے، مگر قرآن اور مسلمان کو ذرّہ برابر نقصان نہیں پہنچا سکتے ،توآج اگر کوئی زبور کا ماننے والا ،تورات اور انجیل کا متّبع یہ اعلان کرے کہ ہم اپنی کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں تو اس دعوت کو ہر گز قبول نہیں کیا جائیگا ، نہ ہی ان باطل مذاہب کا اعتبار کیا جائیگا اس کی وجہ یہ کہ ان کی کتابیں محفوظ نہیں ہیں تو ان کے مذاہب بھی ختم ہوگئے ، ادھر قرآن کریم محفوظ ہے تو مذہبِ اسلام بھی محفوظ ہے اور اس مذہب کو ماننے والے مسلمان بھی تاقیامت محفوظ ہیں ،تو آج صرف تبلیغِ اسلام کی اجازت ہے دوسرے کسی بھی مذہب کی اجازت نہیں ہے ،تو یہ خدا کی آخری کتاب خدا کے،آخری پیغمبر اور آخری رسولﷺ پر نازل کی گئی ، اس کتاب کو رمضان ہی میں آسمانِ دنیاپر نازل کیا گیا ،رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرتے اور حضرت جبرئیل کو رسول اکرم ﷺ رمضان المبارک میں قرآن شریف سناتے اور حضرت جبرئیل رسول اللہﷺ کو قرآن کریم سناتے ، یہ قرآن ہی کی خصوصیت اور ممتاز حیثیت ہیکہ جوں ہی ہلالِ رمضان المبارک نظر آیاچاند رات ہی کو نمازِ تراویح میں قرآن کریم کا آغاز کردیاجاتاہے ، حالانکہ رویتِ ہلالِ رمضان المبارک کے فوری بعد رمضان المبارک کا کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا دوسرے دن رمضان کی ابتدا ہوتی ہے ، مگر قرآنِ کریم تو چاند کے دیکھنے کے بعد ہی تراویح میں شروع کردیاجاتاہے ، اتنی اہم مناسبت قرآن کریم کو ماہِ رمضان سے ہے ۔
ماہِ مبارک میں دوسری عبادتیںـ:
رمضان المبارک میں سب سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کثرت سے کرنی چاہئے حدیث میں ہیکہ قرآن شریف کے ہر ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، جیسے الم ہے یہ پورا ایک لفظ نہیں ہے بلکہ ’’الف‘‘ ایک لفظ ’’لام ‘‘ایک لفظ اور ’’میم‘‘ایک لفظ ہے گویا ان تینوں الفاظ کے پڑھنے پر تیس نیکیاں مل گئیں ، کثرت کے ساتھ تلاوت ِ قرآن پر کروڑوں نیکیاں اللہ تعالیٰ عنایت فرمائیں گے ، امام احمد ابن حنبل کے حالات میں لکھا ہیکہ ہر تین دن میں قرآن کریم ختم کرتے ، اس طرح ہمارے اسلاف واکابر قرآن کریم بکثرت تلاوت کرتے ، اس ماہ مبارک میں جتنا موقع ملے قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے،رات میں تراویح باجماعت ادا کرنا چاہئے اگر چیکہ یہ نوافل میں سے ہے ،اس میں قرآن کریم مکمل ختم کیا جاتاہے اس طرح قیام رمضان کی راتوں میں کرناچاہئے جس طرح دن میں صیام کیا جاتاہے ، دن میں روزے رکھنا فرض ہے جس طرح نماز ، زکواۃ اور مالی فراوانی پر حج فرض ہے ، رمضان کے روزے بھی ارکانِ اربعہ میں سے ایک رکن ہیں، یہ کوئی رسمی یارواجی چیز نہیں کہ جی چاہا رکھ لیا یا ترک کردیا ، خدا کے یہاں قیامت کے روز اس کا حساب دئے بغیر بندئہ مؤمن آگے بڑھ ہی نہیں سکتا ،اس لئے آخرت میں آسانی اور خدا کے سوال سے بچنے اور اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنانے سے بچانے اور جنت کا مستحق بنائے جانے کے خیال کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے رمضان کے روزوں کی پابندی کریں، بہت سے مزدور قسم کے نوجوان یہ بہانہ کرتے ہیں کہ دن میں ہم مزدوری کرتے ہیں روزہ رکھ نہیں سکتے مگر یہ شریعت میں عذر قابلِ قبول ہرگز نہیں ہاں یہ تدبیر کی جاسکتی ہیکہ رمضان المبارک میں کام کم کیاجائے مثلا ًغیر رمضان میں ۸ گھنٹے کام کیاجاتاہے تو ایسے مزدور کو چاہئے کہ رمضان المبارک میں ۵ گھنٹے کام کرے ، اس تدبیر سے روزے بھی رکھے جاسکتے ہیں اور اپنا کام بھی چلتا رہیگا مگر روزے ترک کرکے مزدوری کو اہم سمجھنا ایک مسلمان کا شیوہ ہرگز نہیں ہے ، ہم تاریخِ اسلام کی سب سے پہلی جنگ ، جنگِ بدر پر نظر ڈالیں تو اس جنگ میں صحابۂ کرام کے پاس کھانے پینے کا سامان کچھ نہ تھا میدان بدر میں واقع پانی کا کنواں تھا مگر اس پر بھی کفار مکہ کا قبضہ ہوچکا تھا، ان تین سوتیرہ صحابہ کے لشکر کیلئے پینے کا پانی بھی میسّر نہ تھا اور اس اسلامی لشکر میں دونوں جہاں کے سردار، امام الانبیاء وسید الانبیاءﷺ بھی جلوہ افروز ہیں مگر اس سخت عرب کی گرمی میں روزے کی حالت میں اس اسلامی لشکر نے بے مثال کامیابی حاصل کی اور کفار مکہ جن کی تعدادہزار تھی تین سوتیرہ کے مقابلے میں ان کفار ِ مکہ کی بری طرح ناکامی ہوئی ، جبکہ اس لشکر اسلام کو پینے کا پانی تک موجود نہ تھا ، کیا ہمارے مسلم نوجوانوں اور بلاعذر روزہ ترک کرنے والوں کیلئے یہ جنگ بدر کا واقعہ آئیڈیل اور نمونہ نہیں ہے ؟ کیا آج ایک معمولی درجے کا مسلمان بھی ایسی تکلیف میں مبتلا ہے؟ جس طرح یہ اصحابِ بدر تھے ، ان حضرات نے تو روزے کی حالت میں جنگ کرکے اسلام کو روشن کیا اور کفر کا مونہہ کالا کیاتھا ،اس ایک واقعے کو اپنے سامنے رکھ کر سوچیں کہ وہ حضرات کس طرح خدا ورسول اور اسلام کے شیدائی تھے اور ہمارا کیا حال ہے ،اسی جنگ ِ بدر کے لشکرِ اسلام کی بے سروسامنی کو حفیظ جالندھری نے پرُ اثر انداز سے بیان کیا ہے۔
اِدھر سے آرہی تھی اک جماعت حق پرستوں کی بباطن روزہ داروں کی بظاہر فاقہ مستوں کی
نہ ان کے ساتھ خیمے تھے ، نہ سامانِ ٔرسد کوئی نہ ان کی پشت پر تھا جز خدا ، بہرِ مدد کوئی
نہ زرہیں تھیں، نہ ڈھالیں تھیں نہ خنجر تھے نہ شمشیریں فقط خاموش تسکیں تھی ، فقط پرجوش تکبیریں
کوئی ساماں نہیں تھا ایک ہی سامان تھا ان کا خدا واحد نبی صادق ہے ، یہ ایمان تھا ان کا
رمضان کی اہم عبادت آخری دس دنوں میں اعتکاف کی ادائیگی بھی ہے پورے دس دنوں کا اعتکاف ضروری ہے ، سارے محلے میں ایک دو آدمی اعتکاف مسجد میں کرلیں تو سب کی طرف سے یہ کافی ہے ، معتکف کی مثال ایک بھکاری کی طرح ہے کہ گویا معتکف خدا کے دربار میں اپنی مغفرت ونجات کی بھیک مانگتے ہوئے دس دن تک مسجد ہی میں پڑاو ڈال چکا کہ جب تک میری مغفرت اور نجات نہیں ہوگی تیرے دربار سے نہیں ہٹوں گا ،رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیشہ طواف کیاہے یہ بہت شرف و فضیلت والی عبادت ہے ،مگر اس اعتکاف والی عبادت کیلئے دوسرے شہروں میں جانا پیروں اور مشائخ کی صحبت میں جاکر بھیڑ بھاڑمیں اپنے شناختی کارڈ دکھاکر ناموں کی انٹری کراکے اس اجتماعی اعتکاف میں شریک ہوکر اعتکاف ادا کرنا یہ بالکل درست نہیں ہے ، یہ اعتکاف اسوئہ نبوی ﷺ اور صحابہ ٔ کرام کے نمونے سے ہم رشتہ ہرگز نہیں ہے چاہے اس اجتماعی اعتکاف کی تاویل اور حیلہ بازی جتنی چاہے کرلیں ،شبِ قدر بھی اسی ماہ مبارک کا ہم امت مسلمہ کیلئے بہت بڑا تحفہ خداوندی ہے اور یہ رات رمضان المبارک کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں آتی ہے جسکی تعیین اٹھالی گئی ہے ،یہ رات بے انتہا فضیلت والی ہے اس ایک رات میں بندئہ مؤمن نے بیدار ہوکر عبادت کرلیا تو اعلانِ خداوندی ہیکہ گویا اس بندئہ مؤمن نے ایک ہزار مہینے عبادت کی ، اب ایک مہینے کی مدت تراسیّ برس چارماہ ہوتے ہیں، جبکہ ہماری عمریں اتنی نہیں ہوتیں، اگر کسی خوش نصیب کو اپنی عمر کے پچاس برس بھی شب قدر مل گئی تو ہزاروں برس گویا اس نے عبادت کرلی ،اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار یہ ماہ مبارک نصیب کرے ، اس کی برکتیں، رحمتیں ، سعادتیں اور مبارک ساعتیں بار بار مقدّر کرے اور اس ماہ مبارک و مقدس کی صحیح معنی میں ہمیں قدر کرنے کی توفیق بخشے ، اس ماہ مبارک میں اپنے لئے اپنے مرحوموں کے لئے دعائیں کریں اور ساری دنیا کے مسلمانوں کی بہبودی ، کامیابی ، کامرانی اور صحیح حکمرانی کی دعائیں بھی ضرور فرمائیں اور اس ناچیز راقم الحروف کے حق میں بھی دنیا وآخرت کی کامیابی وکامرانی کی دعا فرمائیں۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین والحمد للہ رب العالمین۔
