کرناٹک کانگریس: قیادت کا نازک مرحلہ

خاموش تیاری، کھلا تصادم اور غیر یقینی انجام

از: عبدالحلیم منصور

؀ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

کرناٹک کی سیاست اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے ابھی ہونے باقی ہیں، مگر ان کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کا انتظار ضرور ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں اصل بحث نتائج پر نہیں بلکہ نتائج کے بعد ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر مرکوز ہو چکی ہے۔وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان جاری رسہ کشی اب پس پردہ نہیں رہی؛ یہ ایک واضح اور سنجیدہ طاقت کی کشمکش کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

ڈی کے شیوکمار کی دہلی میں سرگرمیاں اس صورتحال کو سمجھنے کی کلید بن چکی ہیں۔ ان کی مسلسل ملاقاتیں، محتاط بیانات اور سیاسی طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ قیادت کی تبدیلی کو ایک مرحلہ وار اور طے شدہ عمل کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ “میں جانتا ہوں سدارامیا کو کس طرح باوقار انداز میں رخصت کرنا ہے” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام ہے—ہائی کمان کے لیے بھی اور ریاستی قیادت کے لیے بھی۔ اس بیان سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ خود کو اگلے مرحلے کے لیے تیار اور ناگزیر متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سدارامیا کا رویہ بظاہر نرم، مگر اندرونی طور پر نہایت مضبوط اور منظم ہے۔ وہ براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے ایک محتاط دفاعی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اپنے قریبی وزراء—جی پرمیشور، ایچ سی مہادیوپا، ستیش جارکی ہولی اور ضمیر احمد خان—کے ساتھ مسلسل مشاورت، ممکنہ کابینہ ردوبدل کی تیاری، اور ہائی کمان تک واضح پیغام پہنچانے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اسے مزید مستحکم بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی سیاست کی بنیاد عددی طاقت، تجربہ اور سماجی توازن پر قائم ہے، اور یہی ان کی اصل قوت ہے۔

یہ کشمکش اس لیے بھی پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ یہ محض دو شخصیات کے درمیان اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی طرزِ فکر کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف سدارامیا کا تجربہ، سماجی انصاف کا بیانیہ اور “اہندا” کی سیاست ہے، تو دوسری طرف ڈی کے شیوکمار کی تنظیمی گرفت، وسائل پر کنٹرول اور فیصلہ کن قیادت کا دعویٰ۔ یہی تضاد اس معاملے کو سادہ نہیں رہنے دیتا اور اسے ایک وسیع سیاسی تناظر میں لے جاتا ہے۔

اسی دوران ایک نہایت حساس پہلو مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا بھی ہے، جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ سابقہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے لیے موجود ریزرویشن کو ختم کر دیا گیا تھا، اور انتخابی وعدوں کے باوجود موجودہ حکومت کے قیام کے بعد بھی اس فیصلے کو اب تک بحال نہیں کیا جا سکا۔ اس تاخیر کا براہِ راست اثر ہزاروں مسلم طلبہ اور نوجوانوں پر پڑا ہے، جو تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں مواقع سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک پالیسی کی کمی نہیں بلکہ ایک گہری سماجی بے چینی اور سیاسی ناراضگی کو جنم دے رہی ہے۔

دوسری طرف، پسماندہ طبقات کو مطمئن کرنے کے لیے داخلی ریزرویشن کے کابینہ فیصلے نے ایک نئی سمت دینے کی کوشش ضرور کی ہے، مگر اس کے نتیجے میں ایک پیچیدہ توازن پیدا ہو گیا ہے۔ ایک طرف کچھ طبقات کو نمائندگی کا احساس ملا ہے، تو دوسری طرف دیگر طبقات میں خدشات اور تحفظات بڑھنے کا امکان بھی پیدا ہوا ہے۔ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

سیاسی سطح پر اصل سوال نتائج نہیں بلکہ ان کی سیاسی تعبیر ہے۔ اگر نتائج حکومت کے حق میں آئے تو سدارامیا اسے اپنی قیادت کے حق میں عوامی اعتماد کا ریفرنڈم قرار دے کر تبدیلی کی بحث کو وقتی طور پر دفن کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر نتائج کمزور رہے تو ڈی کے شیوکمار کے لیے یہ ایک مضبوط دلیل بن سکتی ہے کہ اب قیادت میں فوری تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی پس منظر میں دونوں فریق نتائج سے قبل ہی اپنی حکمت عملی کو واضح سمت دے کر آئندہ کے ممکنہ حالات کے لیے خود کو تیار کر چکے ہیں۔

حالات کا ایک اور پہلو جو سنجیدگی سے زیرِ بحث ہے، وہ “مہاراشٹرا طرز” کی سیاست کا خدشہ ہے۔ اگر کانگریس کے اندر اختلافات مزید گہرے ہوتے ہیں تو اراکین اسمبلی کی وفاداریاں بدلنے، گروہ بندی مضبوط ہونے اور حتیٰ کہ پارٹی میں ممکنہ تقسیم جیسے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورتحال میں حکومت کا استحکام براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

اس پوری رسہ کشی کے درمیان ایک اہم امکان یہ بھی ہے کہ اگر دونوں بڑی قیادتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں حد سے آگے بڑھتی ہیں تو اس کا فائدہ کسی تیسرے فریق کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ کرناٹک کی سیاست میں ذات اور سماجی توازن ہمیشہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے آئے ہیں، اس لیے بدلتے ہوئے حالات میں یہ امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی نیا چہرہ یا متبادل قیادت اچانک مرکزِ نگاہ بن جائے۔ سیاسی تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ جب داخلی اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں تو منظر نامہ غیر متوقع انداز میں بدل جاتا ہے اور وہ قوتیں بھی ابھر آتی ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔

اپوزیشن، خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (سیکولر)، اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک اہم سیاسی موقع ہے، اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کانگریس اندرونی طور پر کمزور ہوتی ہے تو اپوزیشن نہ صرف اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتی ہے بلکہ حکومت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔

مزید برآں، اگر سیاسی حالات حد سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں—مثلاً اکثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگیں یا بحران کھل کر سامنے آ جائے—تو مرکز کی مداخلت اور آئینی اقدامات، حتیٰ کہ صدر راج کے نفاذ جیسے امکانات بھی حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک انتہائی اور آخری راستہ تصور کیا جاتا ہے، مگر موجودہ غیر یقینی اور کشیدہ سیاسی ماحول میں اسے مکمل طور پر خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔

ان تمام حالات کے درمیان سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کانگریس ہائی کمان کس حد تک اور کس انداز میں مداخلت کرے گی۔ کیا وہ ایک واضح اور حتمی فیصلہ لے کر قیادت کے مسئلے کو حل کرے گی، یا اسے وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی؟ دونوں صورتوں کے اپنے خطرات ہیں—فوری فیصلہ داخلی بغاوت کو جنم دے سکتا ہے، جبکہ تاخیر اختلافات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

آخرکار، کرناٹک کانگریس اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر راستہ آزمائش سے بھرا ہوا ہے۔ قیادت کی تبدیلی اگر اتفاقِ رائے، تدبر اور سیاسی بصیرت کے ساتھ انجام پاتی ہے تو یہ ایک مثبت اور مستحکم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ تبدیلی دباؤ، اختلاف اور طاقت کے کھیل کے تحت ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف پارٹی بلکہ ریاستی سیاست پر بھی گہرے اور دیرپا ہوں گے۔

آنے والے دنوں میں صرف یہ طے نہیں ہوگا کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا، بلکہ یہ بھی فیصلہ ہوگا کہ کرناٹک کی سیاست استحکام کی سمت بڑھتی ہے یا ایک طویل غیر یقینی دور میں داخل ہو جاتی ہے۔

شیئر کریں۔