بچوں اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل نشہ(موبائل، ٹیب یا لیپ ٹاپ سے چپکے رہنے کی لت) کےمسئلے پر جمعہ کو راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کی وجہ سے ہر سال تقریباً ۲۰؍ہزار بچے خودکشی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی طرف فوری توجہ دے۔ ’وقفہ صفر‘ میں اس معاملہ کو اٹھاتے ہوئے ڈیرک نے کہا کہ جو مطالعات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق بچے اور نوجوان روزانہ ۸-۸؍ گھنٹے موبائل فون یااسکرین پر گزارتے ہیں جو سالانہ ۱۰۰؍ دن سے زیادہ ہے۔
ڈیرک او برائن نے کہا کہ’’اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال نیند کے نظام کو متاثر کرتا ہے، بے چینی کے خطرے کو بڑھاتا ہے اور موڈ میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتا ہے۔ ‘‘ ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے عملی تجاویز بھی پیش کیں، جیسے فون اٹھانے سے پہلے خود سے سوال کرنا کہ کیوں اٹھا رہے ہیں، اسے چھونے سے پہلے ۱۰؍ تک گننا، آلات کو علاحدہ کمرہ میں چارج کرنااور سونے سے کم از کم ۲؍گھنٹے پہلے اسکرین سے پرہیز کرنا شامل ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ دن میں کچھ وقت اسکرین یا فون کے استعمال کے بغیر ہونا چاہئے جسے انہوں نے ’’خاموشی کی آواز‘‘ نام دیا۔ حکومت سے انہوں نے آف لائن سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اپیل کی۔
