جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی۔اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے ہنگامی اجلاس میں United Nations Security Council سے رجوع کرتے ہوئے اسے “جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد بچے جاں بحق ہوئے۔
ایروانی نے اجلاس کے دوران کہا کہ بعض رکن ممالک “کھلی دوہری پالیسی” اپناتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو نظرانداز کر رہے ہیں جبکہ ایران کے حقِ دفاع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اس کا بنیادی حق ہے۔
امریکی مندوب Mike Waltz نے مؤقف اختیار کیا کہ “ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے”، اور اسے عالمی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ “قانونی اقدامات” کر رہا ہے۔
اسرائیلی مندوب Danny Danon نے مشترکہ کارروائی پر تنقید کرنے والے ارکان کی مذمت کی۔
قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ ایرانی مندوب نے اجلاس کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ اس سے کچھ دیر قبل سابق امریکی صدر Donald Trump نے اس حوالے سے بیان دیا تھا۔
Russia اور China نے امریکی۔اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، جبکہ دیگر ممالک نے ایران کی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا یا کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
خلیجی ممالک کی جانب سے Bahrain کے سفیر جمال فارس الرویعی نے مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے ایران کے حملوں کو “بزدلانہ” قرار دیا اور کہا کہ ایران کسی بھی جواز کے ذریعے بین الاقوامی قانون کو مسخ نہ کرے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل Antonio Guterres نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائی “ایسے واقعات کی زنجیر بھڑکا سکتی ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا”، اور اسے دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
