مغربی بنگال ایس آئی آر: جیت کا فرق صرف 2 فیصد، اور 15 فیصد افراد ووٹ نہیں ڈال سکیں گے؟سپریم کورٹ جج نے ظاہر کی تشویش


مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل پر سپریم کورٹ میں سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں، جہاں جسٹس جویمالیہ باگچی نے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے اور اپیل کے مؤثر نظام کی کمی پر تشویش ظاہر کی۔ سماعت کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ اگر بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کر سکیں تو انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوال کھڑے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب جیت کا مارجن کم ہو۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس باگچی پر مشتمل بنچ ایک ایسی درخواست پر سماعت کر رہا تھا جس میں ان افراد نے رجوع کیا تھا جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں اور ان کی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ کو منجمد کرنے کی تاریخ میں توسیع کی جائے تاکہ اگر ان کی اپیلیں منظور ہو جائیں تو وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں۔

جسٹس باگچی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں ایک نئی اصطلاح "لاجیکل ڈسکریپنسی” متعارف کرائی گئی، جو دیگر ریاستوں خصوصاً بہار کے مقابلے میں مختلف ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بہار میں SIR کے دوران 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل افراد کو اضافی دستاویزات دینے کی ضرورت نہیں تھی، جبکہ بنگال میں اس سے ہٹ کر عمل اپنایا گیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں دستاویزات روزانہ جانچنے والے عدالتی افسران سے سو فیصد درستگی کی توقع نہیں کی جا سکتی، اور اگر 70 فیصد درستگی بھی ہو تو اسے بہترین کارکردگی سمجھا جائے گا۔ اسی لیے ایک مضبوط اپیل نظام ضروری ہے تاکہ کسی بھی غلطی کی اصلاح ممکن ہو سکے۔ جسٹس باگچی نے یہ بھی کہا کہ ووٹرز کو دو آئینی اداروں کے درمیان "پھنسنے” نہیں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی حلقے میں جیت کا فرق صرف 2 فیصد ہو اور 15 فیصد ووٹرز ووٹ نہ ڈال سکیں، تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے اور عدالت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق، ووٹ دینا صرف آئینی حق نہیں بلکہ ایک جذباتی تعلق بھی ہے جو شہری کو جمہوریت سے جوڑتا ہے۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا چکی ہیں۔ لاکھوں افراد کی اپیلیں زیر التوا ہونے کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

اس پورے معاملے کا اثر براہ راست عام ووٹرز پر پڑ رہا ہے، جو اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں اہل ووٹرز کا نام فہرست سے خارج رہتا ہے، تو نہ صرف انتخابی نتائج بلکہ جمہوری نظام کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کریں، اور اگر ان کی اپیلیں منظور ہو جائیں تو اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاہم عدالت کے ریمارکس نے واضح کر دیا ہے کہ ووٹر لسٹ کے عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

شیئر کریں۔