کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی شفافیت اور تصدیق کے نام پر جاری ‘خصوصی گہری نظرثانی’ (ایس آئی آر) عمل ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گیا ہے۔ معروف فلمی اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلورو کی ووٹر لسٹ سے ان کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور ووٹرز کی فہرستوں کی تیاری پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست کے لاکھوں شہریوں کو ایس آئی آر کے تحت نشان زد کیا گیا ہے۔
اداکار پرکاش راج نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے انتظامیہ پر طنزیہ انداز میں شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ۶۵ لاکھ ووٹرز میں شامل ہیں جن کے نام بنگلورو کی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ پرکاش راج کا کہنا تھا کہ وہ اسی حلقے میں پیدا ہوئے، یہی ان کی تعلیم و تربیت اور تھیٹر کا سفر مکمل ہوا اور وہ اسی بنگلورو حلقہ انتخاب سے لوک سبھا کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا جانا ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
دستیا ب رپورٹس کے مطابق، کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) وی انبوکمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ریاست بھر میں ایس آئی آر کے تحت ۱.۱۱ کروڑ ووٹرز کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے تنہا بنگلورو میں ۱۰.۳ ملین ووٹرز شامل ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ۴۹.۴۲ لاکھ ووٹرز ایسے ہیں جنہیں نقل مکانی، عدم موجودگی، فوتگی یا ڈپلیکیٹ اندراج جیسے زمروں کے تحت نشان زد کیا گیا ہے۔ تاہم اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کی اخراج سے عام شہریوں اور جمہوری حقوق کے علمبرداروں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔
جمہوری طرز عمل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے پرکاش راج نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ اگرچہ طاقت اور اختیار کے زعم میں کچھ شہریوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اقتدار میں موجود عناصر کو جمہوری طریقے سے ہٹانے کے عوامی جذبے کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اپنا ووٹر آئی ڈی کارڈ اور ووٹنگ کا حق بحال کروانے کے لیے انہیں کس طرح کے پیچیدہ کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس واقعے نے کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی اصلاح کے نام پر جاری کارروائی کی شفافیت پر گہرے سوالات ثبت کر دیے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس بات کا سخت نوٹس لینا چاہیے تاکہ کوئی بھی جائز شہری اپنے بنیادی جمہوری حق یعنی ووٹ سے محروم نہ ہو۔ آنے والے دنوں میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی اس معاملے پر قانونی اور سیاسی سطح پر مزید کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




