رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے عین قبل ریاست کی فرنویس حکومت نے ریاست کے مسلمانوں کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں دیئے جانے والے ۵؍ فیصد کوٹہ کو ختم کرنے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا ۔ اس پر مسلم اور اقلیتی حلقوں میں کافی چہ میگوئیاںہوئیں۔ ساتھ ہی بی جے پی حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔اب اطلاعات ہیں کہ اس فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ ایک معروف وکیل کے ذریعے داخل کردہ عرضداشت میں حکومت کے اس فیصلہ کو نسلی امتیاز برتنے کےمصداق اور غیر آئینی قرار دیا گیا ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ سیّداعجاز عباس نقوی نے مسلمانوں کو تعلیم کے شعبے میں دیئے گئے ۵؍ فیصد کوٹہ کو ختم کرنے کی ضمن میں ۱۷؍ فروری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔
اس کے علاوہ نقوی نے اس ضمن میں ایک بیان جاری کرکے اس بات کا بھی حوالہ دیا کہ مر اٹھا ریزرویشن کے ساتھ بامبے ہائی کورٹ میں کی جانے والی سابقہ سماعتوں میں کورٹ نے مراٹھا ریزرویشن سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا تھا البتہ پسماندہ مسلمانوں کو تعلیم میں ۵؍ فیصد کوٹہ برقرار رکھنےکا فرمان جاری کیا تھا ۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کرتے ہوئےہائی کورٹ کے فیصلہ پر گمراہ کن تفصیلات فراہم کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ وکیل کے بقول اب اس ضمن میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں کوتعلیم میںملنے والے ۵؍ فیصد کوٹہ سے محروم کر دیا گیا ہے۔
وکیل نے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ملنے والے ۵؍ فیصد کوٹہ سے محروم کرکے ریاستی حکومت پر نسلی امتیاز برتنے کا الزام لگایا ہے اور اس فیصلہ کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔ انہوں الزام لگایا کہ۲۰۱۴ء میں سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ مسلم سماج سے وابستہ افراد کوتعلیم میں ۵؍ فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا جسے موجودہ حکومت نے متعصبانہ طریقہ سے ختم کر دیا ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ مذکورہ فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی ہے جس پر ممکنہ طور پر ۲۳؍ فروری کوسماعت ہوگی۔ یاد رہے کہ۲۰۱۴ء میں اُس وقت کی کانگریس۔این سی پی حکومت نے سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات (ایس ای بی سی ) کے زمرے کے تحت مراٹھا برادری کیلئے ۱۶؍ فیصد اور مخصوص مسلم ذاتوں کیلئے ۵؍فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت مسلمانوں کی تقریباً ۵۰؍ برادریوں کو ریزرویشن کافائدہ ملنے والا تھا ۔ لیکن چونکہ کانگریس حکومت نے اسے اسمبلی میں منظور نہیںکروایا تھا بلکہ صرف آرڈیننس جاری کرکے اسے معلق چھوڑ دیا تھا اسی لئےدیویندر فرنویس نے نئی حکومت بناتے ہی مسلمانوں کا ریزرویشن، اپنا پرانا راگ الاپتے ہوئے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کو بھی ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ، آر ڈیننس کو کالعدم ہوجانے دیا۔ساتھ ہی چونکہ اس کوٹہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا اس لئے وہاں سےبھی روک لگ گئی اور فرنویس حکومت کو اسے روکنے کا بہانہ مل گیا تھا ۔ اب چونکہ یہ کوٹہ ویسے ہی منسوخ تھا اور اس کے تحت کسی بھی مسلم برادری کو فائدہ نہیں مل رہا تھا اس لئے جب گزشتہ دنوں اسے باقاعدہ منسوخ کرنے کا جی آر جاری کیا گیا تو سبھی کو حیرت ہوئی کہ آخر حکومت نے ایسا کیوں کیا ؟ اب حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کے فیصلہ کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔
