ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بدھ کو یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ ۱۹۹۵ء کے اسوسی ایشن معاہدے کو معطل کرے، جو دونوں فریقوں کے درمیان تجارت اور سیاسی تعاون کو منظم کرتا ہے۔ایکس پر جاری اپنے بیان میں سانچیز نے کہا کہ ’’آج، بنجامن نیتن یاہو نے جارحیت شروع ہونے کے بعد سے لبنان پر اپنا سب سے سخت حملہ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی جانوں اور بین الاقوامی قانون کے لیے دکھائی جانے والی بے اعتنائی ’’ناقابل برداشت‘‘ ہے۔
سانچیز نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں ’’اسرائیل کے ساتھ اسوسی ایشن کے معاہدے کو معطل کرنا‘‘ شامل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مؤثر سفارتی اور سیاسی ردعمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کو جاری جنگ بندی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان کی شمولیت ضروری ہے۔ سانچیز نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کی اس نئی خلاف ورزی کی مذمت کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان مجرمانہ کارروائیوں کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۸۹؍ افراد ہلاک اور ۷۲۲؍ زخمی ہوئے ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار ابتدائی قرار دیے جا رہے ہیں اور ان میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور خطے میں جاری عسکری کارروائیاں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ یورپی یونین کے ساتھ اسرائیل کا ۱۹۹۵ء کا اسوسی ایشن معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیاسی تعلقات کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور اس کی معطلی ایک اہم سفارتی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یورپی یونین کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فیصلے پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے اسرائیل کے اقدامات پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
