علی خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر ہیں اور 1989 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے بعد اس منصب پر آئے۔ 86 سالہ مذہبی رہنما ایران کے سیاسی، عسکری اور اسٹریٹجک فیصلوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔
خامنہ ای کا کردار کیا ہے؟
ایران کے نظامِ حکومت میں سپریم لیڈر سب سے بااختیار منصب ہے۔ ان کے پاس:
مسلح افواج کی اعلیٰ کمان
خارجہ و دفاعی پالیسی پر حتمی اختیار
عدلیہ، سرکاری میڈیا اور اہم اداروں کی نگرانی
پاسدارانِ انقلاب پر براہِ راست اثر و رسوخ
اسی وجہ سے وہ ایران کی پالیسی سازی کا مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں۔
حالیہ حملوں میں کیا ہوا؟
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز تہران کے جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں وہ مقامات بھی شامل تھے جو خامنہ ای سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے Tasnim News Agency کے مطابق تہران کے شمالی علاقے شیمیران میں صدارتی محل کے قریب سات میزائل گرے
خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے نزدیک بھی حملوں کی اطلاعات ملیں
جبکہ Associated Press نے بھی رپورٹ کیا کہ دارالحکومت میں خامنہ ای کے دفاتر کے قریب حملے ہوئے۔
وہ ممکنہ ہدف کیوں ہو سکتے ہیں؟
اختیار کا مرکز: ایران کی عسکری و جوہری پالیسیوں پر آخری فیصلہ انہی کا ہوتا ہے۔
علامتی حیثیت: سپریم لیڈر پر حملہ ایران کے ریاستی ڈھانچے پر براہِ راست ضرب تصور ہوگا۔
جوابی کارروائی کا محرک: ایسے کسی اقدام سے ایران کی جانب سے شدید اور وسیع ردعمل متوقع ہو سکتا ہے۔
پس منظر
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اگر سپریم لیڈر سے منسلک مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ تنازع کو انتہائی حساس مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔
