ای کامرس کی دیوہیکل کمپنی امیزون (Amazon) نے ایک بار پھر ہزاروں ملازمین کے خواب توڑ دیے ہیں۔ کمپنی نے۱۶؍ہزار کارپوریٹ اسٹاف کی نوکریاں ختم کر دی ہیں۔ کورونا وبا کے دوران جب بڑے پیمانے پر بھرتیاں کی گئی تھیں، اُس وقت بھرتی کیے گئے بہت سے لوگوں کے خاندانوں کی روزی روٹی اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ تین مہینوں میں ایمیزون کی دوسری بڑی چھٹنی ہے۔ اس سے پہلے اکتوبر میں ۱۴؍ہزار نوکریاں ختم کی گئی تھیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیاں ہو گئی تھیں، اور اب اضافی ملازمین کو کم کر کے کمپنی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مینجمنٹ کی سطح کم ہو، کاغذی کارروائی (بیوروکریسی) گھٹے، ملازمین پر زیادہ ذمہ داری ہو اور فیصلے تیزی سے لیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس(اے آئی ) ٹولز کے زیادہ استعمال سے کام کو تیز اور کم خرچ بنانا بھی ہدف ہے۔
۶ء۴؍ فیصد ملازمین متاثر ہوں گے
ایمیزون میں کل تقریباً ۱۵؍ لاکھ ۷۰؍ہزار ملازمین ہیں، جن میں سے زیادہ تر ویئرہاؤس میں کام کرتے ہیں۔ آفس یا کارپوریٹ ملازمین کی تعداد تقریباً ۳؍ لاکھ۵۰؍ ہزار ہے، اس لحاظ سے یہ تخفیف ان میں سے تقریباً ۶ء۴؍ فیصد افراد کو متاثر کرے گی۔
کمپنی نے بتایا ہے کہ امریکہ میں زیادہ تر متاثرہ ملازمین کو۹۰؍ دن کا وقت دیا جائے گا تاکہ وہ کمپنی کے اندر کسی اور عہدے کے لیے درخواست دے سکیں۔ جو ملازمین نئی ذمہ داری حاصل نہ کر سکیں یا نہ لینا چاہیں، انہیں سیورینس پے، نوکری تلاش کرنے میں مدد، ہیلتھ انشورنس جیسی سہولیات دی جائیں گی۔
آنے والے وقت میں آفس ملازمین کی تعداد کم ہو سکتی ہے
امیزون کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر(سی ای او) اینڈی جیسی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے مستقبل میں آفس میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر چند مہینوں میں اس طرح کی بڑی چھٹنی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اے آئی کام کرنے کے طریقے بدل دے گی
اس ہفتے داؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کی میٹنگ کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ اے آئی مکمل طور پر انسانوں کی نوکریاں نہیں چھینے گی، لیکن آٹومیشن کے ذریعے کام کرنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلی ضرور لے آئے گی۔
