ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ نہیں کرے گا اور نہ ہی وہاں میزائل داغے جائیں گے، جب تک کہ ان ممالک کی جانب سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اس حوالے سے باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو یقین دلایا گیا ہے کہ ایران کی طرف سے مزید حملے نہیں ہوں گے، جب تک کہ ان کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
ایرانی صدر نے اس موقع پر پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران خطے کے کچھ ممالک ایران کے حملوں کی زد میں آئے، جس پر ایران کو افسوس ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی شدید ہو چکی ہے۔ 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوگئی۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، تاہم اب ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو براہ راست نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
