انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کی صبح سماجوادی پارٹی کے سینیئر رہنما اور جیل میں بند سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان سے وابستہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی کے خلاف منی لانڈرنگ تحقیقات کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔ تفتیشی ایجنسی کی ٹیموں نے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے دستوں کے ہمراہ اتر پردیش کے اضلاع رامپور اور سہارنپور کے علاوہ قومی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے جامعہ نگر میں واقع تقریباً 10 مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت درج ایک مقدمے کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔ تلاشی لیے جانے والے مقامات میں سہارنپور کے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی رہائش گاہ اور دفاتر کے علاوہ دو نجی کمپنیاں اور ان کے پروموٹرز کے ٹھکانے شامل ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر ٹرسٹ کے مالیاتی امور سے جوڑا جا رہا ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سرکاری پروجیکٹس کے ٹھیکوں سے حاصل ہونے والے فنڈز کو نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر منتقل کیا گیا اور اس رقم کا استعمال جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کے اثاثے اور عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے کیا گیا۔
لکھنؤ میں رجسٹرڈ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے روح رواں اور پرنسپل ٹرسٹ اعظم خان ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ اور قریبی رفقا بھی اس ٹرسٹ کے انتظامی امور سے وابستہ ہیں۔ یہ ٹرسٹ رامپور میں سال 2006 سے قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی اور ایک پبلک اسکول کی دیکھ بھال اور انتظام سنبھالتا ہے۔ تفتیشی افسران نے چھاپے ماری کے دوران کیمپس، دفاتر اور رہائش گاہوں سے مالیاتی کھاتوں، بینک لین دین کے ریکارڈ اور ڈیجیٹل آلات کو اپنی تحویل میں لے کر فنڈز کی اصل نوعیت اور مبینہ منی ٹریل کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
جوہر یونیورسٹی گزشتہ کچھ عرصے سے انتظامی اور قانونی تنازعات کے مرکز میں رہی ہے۔ جولائی میں رامپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماسٹر پلان اور تعمیراتی قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کیمپس کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو گرانے کا نوٹس جاری کیا تھا، جس پر طلبہ نے اپنے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے شدید احتجاج کیا تھا اور بعد ازاں ڈویژنل کمشنر نے اس کارروائی پر حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔ دوسری جانب سماجوادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ اعظم خان اور ان کے قائم کردہ اقلیتی تعلیمی ادارے کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی تادیبی کارروائی سے قبل تمام قانونی اور دستاویزی پہلوؤں کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔ ای ڈی کی جانب سے ضبط شدہ مواد کے جائزے کے بعد اس معاملے میں مزید قانونی پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔




