اتر پردیش حکومت نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی منظور کردہ ’ون ڈسٹرکٹ-ون کوزین‘ (ODOC) اسکیم کے تحت ریاست بھر کے روایتی کھانوں کے فروغ کیلئے ضلع وار فہرست جاری کی ہے۔ اس اقدام کے تحت، اتر پردیش کے تمام ۷۵ اضلاع سے برانڈنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات کے فروغ کیلئے مخصوص پکوان منتخب کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ’او ڈی او سی‘ (ODOC) اقدام کا تعلق ۲۰۱۸ء میں شروع کئے گئے ’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ‘ ماڈل سے ہے جس کا مقصد روایتی مصنوعات اور صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس اسکیم کیلئے ۱۵۰ کروڑ روپے مختص کئے ہیں، جس میں اہل دستکاروں اور تاجروں کیلئے ۲۵ فیصد تک سبسڈی (زیادہ سے زیادہ ۲۰ لاکھ روپے) کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ذیل میں اتر پردیش کے چند اضلاع کے منتخب پکوانوں کی فہرست دی جا رہی ہے۔
۱) سلطان پور: پیڑا، سموسہ، کڑھائی پوری، لال پیڑا، جلیبی
۲) بارہ بنکی: چندر کلا، لال پیڑا
۳) امیٹھی: سموسہ، گڑ کی کھیر، گلگلہ
۴) امبیڈکر نگر: بالو شاہی، چاٹ، کھجلا
۵) دیوی پٹن ڈویژن (گونڈہ): دہی بڑا
۶) بہرائچ: چمچم، کچوری
۷) بلرام پور: ناریل کی برفی، قلاقند، گھمانجا، چاٹ
۸) شراوستی: امرتی
۹) لکھنؤ: ریوڑی، آم کی مصنوعات، چاٹ، ملائی مکھن
۱۰) ہردوئی: آلو پوری، لڈو، لاوزھد
۱۱) لکھیم پور کھیری: کیلا، گڑ، کھویا پیڑا، کھیر موہن، رسگلہ
۱۲) رائے بریلی: مصالحے
۱۳) سیتا پور: مکھن ملائی، سموسہ، مرچی پکوڑا، پیڑا
۱۴) اناؤ: کالا جامن، سموسہ، کشلی، تلوک پری
۱۵) ایودھیا: چندر کلا، بالو شاہی، دہی
۱۶) اعظم گڑھ: سفید گاجر کا حلوہ
۱۷) مہوبہ: کھجور کا گڑ
۱۸) ہمیر پور: بند یلی دال سے تیار کردہ پکوان
۱۹) وارانسی: ٹھنڈائی، لسی اور بنارسی پان
۲۰) جونپور: امرتی
وزیر اعلیٰ کے مشیر اونیش کے اوستھی کی جانب سے شیئر کی گئی فہرست میں مٹھائیاں، اسنیکس، پھل اور سبزیوں سے تیار کردہ پکوان شامل ہیں، لیکن گلوٹی کباب، کاکوری کباب اور اودھی بریانی جیسے مقبول پکوانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفائیڈ فہرست میں کسی بھی نان ویج پکوانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جبکہ ریاست کو کئی مشہور اودھی پکوانوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
اس فہرست میں نان ویج پکوانوں کی عدم موجودگی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے خاص طور پر اس لئے کہ لکھنؤ اپنے اودھی ذائقوں کیلئے عالمی سطح پر مشہور ہے اور اسے یونیسکو کی جانب سے ’عالمی گیسٹرونومی سٹی‘ کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مراد آبادی بریانی جیسے مشہور علاقائی پکوانوں کو بھی اس سرکاری فہرست میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی یوگی پر تنقید
سوشل میڈیا صارفین یوپی حکومت کی جاری کردہ فہرست سے غیر مطمئن نظر آئے۔ ایکس اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر کئی صارفین نے اس بات کی نشان دہی کی کہ یہ فہرست اس نوابی اور اودھی غذائی ثقافت کو نظر انداز کرتی ہے جس کیلئے اتر پردیش، خاص طور پر لکھنؤ، عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔
ایکس پر ایک صارف نے لکھا: ”لکھنؤ ’گلوٹی کباب‘ اور ’بریانی‘ کی وجہ سے یونیسکو کا ’گیسٹرونومی سٹی‘ ہے۔ اب سرکاری فہرست میں صرف ریوڑی اور چاٹ ہے؟ یہ پکوانوں کو فروغ دینے نہیں بلکہ مٹانے کے مترادف ہے۔“
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ”یوگی حکومت نے ’ون ڈسٹرکٹ ون کوزین‘ کو ’ون ڈسٹرکٹ ون آئیڈیالوجی‘ (ایک ضلع، ایک نظریہ) میں بدل دیا ہے۔ یوپی کے اصل پکوان کہاں ہیں؟ بریانی اور کباب وہی چیزیں ہیں جن کیلئے لوگ یہاں سفر کرکے آتے ہیں۔“
کئی پوسٹس میں صارفین نے حکومت کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے کہا کہ ”ایک فہرست کے ذریعے ۲۰۰ سال کی تاریخ مٹا دی گئی۔ ٹنڈے کباب والے یقیناً رو رہے ہوگے۔ بالکل بھی نان ویج نہیں؟ یہ بہت مایوس کن ہے۔“
ایک اور صارف نے پوسٹ کیا: "وہ یوپی کے پکوانوں کی برانڈنگ اور انہیں برآمد کرنا چاہتے ہیں لیکن سب سے پسندیدہ حصہ نان ویج پکوان بھول گئے۔ یہ فہرست ادھوری اور متعصبانہ ہے۔“




