دہلی میں وی ایچ پی کا بڑا پروگرام، 1700 ترشول تقسیم، اشتعال انگیز تقاریر پر تشویش


دہلی کے اتم نگر علاقے میں حالیہ قتل کے بعد پہلے ہی کشیدہ ماحول کے درمیان وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے بڑے پیمانے پر ’ترشول دکشا‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں تقریباً 1700 ترشول تقسیم کیے گئے۔ یہ پروگرام ایسے وقت میں منعقد ہوا جب علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی برقرار ہے، جس کے باعث اس اقدام پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مغربی دہلی کے ہست سال واقع ایپا پارک میں منعقد اس پروگرام میں وی ایچ پی اور اس کی یوتھ ونگ بجرنگ دل کے کارکنوں نے شرکت کی۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام ’سنسکار، سیوا اور سرکشا‘ کے عہد کے طور پر کیا گیا، تاہم زمینی سطح پر اس پروگرام کے دوران اشتعال انگیز تقاریر بھی کی گئیں اور نوجوانوں کو جذباتی انداز میں متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔ حیران کن طور پر اس پروگرام میں کئی نابالغ بچوں کو بھی ترشول فراہم کیے گئے، جس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

یہ پروگرام اس مقام کے قریب منعقد ہوا جہاں حال ہی میں 26 سالہ ترون کمار کے قتل کے بعد حالات بگڑ گئے تھے۔ اس واقعے نے معمولی تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا، جس کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور مسلسل نگرانی جاری ہے۔ اس کے باوجود اسی علاقے میں اس نوعیت کے پروگرام کا انعقاد کئی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق وی ایچ پی کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ صرف دہلی میں ہی نہیں بلکہ پورے شہر میں 30 ہزار سے زائد ترشول تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج سے دی گئی تقاریر میں سخت اور جارحانہ لہجہ اپنایا گیا، جس میں بالواسطہ طور پر ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بعض مقررین نے طاقت کے اظہار اور مقابلے کی بات کرتے ہوئے نوجوانوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔

پروگرام میں ترون کمار کے اہل خانہ کی موجودگی بھی قابل ذکر رہی، جنہوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران اجتماعی طور پر حلف بھی دلوایا گیا، جس میں مذہب اور قوم کے تحفظ کے عہد کے ساتھ ساتھ بھارت کو ’ہندو راشٹر‘ ماننے جیسے جملے بھی شامل تھے، جو آئینی اصولوں سے متصادم سمجھے جا رہے ہیں۔

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو دہلی میں ترشول تقسیم کی یہ مہم کوئی نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر وی ایچ پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے اس طرح کے پروگرام منعقد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم موجودہ کشیدہ حالات میں اس کی حساسیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

اس پورے معاملے کے اثرات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ وسیع سماجی ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سے پہلے سے موجود تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہلی کے اتم نگر میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ حساس حالات میں اس طرح کے پروگراموں کی اجازت اور ان کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں۔