دھولیہ میں شرپسندوں کا تبلیغی جماعت کے ۳؍ اراکین پر حملہ ، شدید زخمی

دھولیہ شہر سے تعلق رکھنے والےتبلیغی جماعت کے ۳؍ اراکین  پر پیر کی شرپسندوں نے اچانک حملہ کر دیا جس میں تینوں بری طرح زخمی ہوئے اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان تینوں کے سر، ہاتھ اور پیر پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ان کی ڈاڑھی اور ٹوپی دیکھ کر شر پسندوں نے ان پر بلاوجہ حملہ کر دیا۔ 
اس بابت سابق کارپوریٹر امین پٹیل  نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ دھولیہ کی مسجد اسحاق کے جماعت کے تین ساتھی مالیگائوں سے آٹو رکشا دھولیہ لوٹ رہے تھےجبکہ دیگر ۲؍ ساتھی موٹر سائیکل پر آٹو رکشا کے پیچھے چل رہے تھے۔ جب یہ لوگ رات تقریباً ۱۲؍ بجے  اروی گاوں کے پاس پہنچےتو شر پسندوں کے ہجوم نے ان پر  قاتلانہ حملہ کر دیا۔ فوری طور پر حملہ کی اطلاع  پولیس کو دی گئی ۔ تعلقہ پولیس کا دستہ جائے وقوعہ پر پہنچا تب تک تینوں بری طرح زخمی ہو چکے تھے۔تینوں کو سرکاری اسپتال میں داخل کر وایا گیا۔ امین پٹیل کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد حالات کے پیش نظر زخمیوں کو نجی اسپتال میں داخل کروایا گیا۔

اس حملے میں شعیب انصاری کے سر میں شدید زخم آئے ہیں ،سلیم انصاری کا ہاتھ فیکچر ہوا ہے  اور سلمان انصاری کے منہ پر مار لگی ہے۔اس ضمن میں شعیب انصاری نے بتایا کہ ۳۰؍ تا ۴۰؍ افراد جھاڑیوں سے نکل کر اچانک ان کی رکشا پر حملہ آور ہوئے ۔ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے۔ زخمیوں نے بتایا کہ ہم نے ان سے کہا کہ ہم  مذہبی کام کیلئے مالیگاوں گئے تھے واپس دھولیہ اپنے شہر جارہے ہیں۔لیکن شرپسندوں نے ان کی ایک نہ سنی اور ہم کو ہتھیاروں سے بری طرح سے پیٹنا شروع کردیا۔

اس حملے کی خبر ملتے ہی ایم آئی ایم کے کارپوریٹرس تعلقہ پولیس پہنچےاور پی آئی دھننجے پاٹل سے فوری طور پر شرپسندوں کو گرفتار کرنے کی مانگ کی۔ تعلقہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اروی گاوں سے کشور مہالے، چیتن پوار، انیکیت بارسے، وشال باگلے، دیپک کالے، ساحل گولی، پون دھائیگڑے، نریندر کولی، چیتن سوناونے کو حراست میں لیا  ۔ ایم آئی ایم کے کارپوریٹرس نے دوسرے دن ضلع ایس پی شری کانت دھیورے سے ملاقات کی اور دیگر خاطیوں کو بھی پکڑنے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔دھیورے نے کارپوریٹرس کے وفد کو خاطیوں کو سخت سزا دینے کا یقین دلایا ہے۔ معلوم ہوکہ اروی، للینگ گھاٹ، اودھان گاوں ان علاقوں میں رات میں گاہے بگاہے  مسافروں پر حملے اور لوٹ مار کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔