قومی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر نیٹ (NEET) اور دیگر مسابقتی امتحانات میں ہونے والے پرچہ لیک کے خلاف جاری احتجاجی تحریک نے شدید سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک معاملات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور سخت ترین کارروائی کے اعلان کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سی جے پی قیادت نے الزام لگایا ہے کہ حکومت زبانی جمع خرچ کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے اور ایک ماہ سے جاری پرامن احتجاج کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کر رہی ہے۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج میں خلل ڈالنے کے لیے حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے بیرونی افراد اور غنڈوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین ایک ماہ سے انتہائی پرامن انداز میں اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن اب تحریک کی وسعت سے گھبرا کر پتھراؤ اور اشتعال انگیزی کے ذریعے اسے تشدد کا نام دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ دپکے نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس کی سرپرستی میں تحریک کو بدنام کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، تاہم ان الزامات کی فی الحال کوئی آزادانہ یا سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تمام مظاہرین سے مکمل طور پر پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ سماجی کارکن سورَو داس نے سونم وانگچک سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی کئی پرامن تحریکوں کو بدنام کرنے کے لیے سماج دشمن عناصر کا سہارا لیا گیا ہے، لیکن اس بار مظاہرین کسی بھی اشتعال انگیزی کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تمام طلبا اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ شرپسندوں سے خود کو الگ رکھیں اور اپنے مطالبات کے لیے آئینی اور پرامن جدوجہد جاری رکھیں۔
ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے اس حساس مسئلے پر جہاں ایک طرف حکومت فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے فوری انصاف کا دعویٰ کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف طلبہ اور مظاہرین اسے ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صرف کارروائی کے اعلانات کافی نہیں بلکہ پیپر لیک کے پورے نظام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متاثرہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق خبر لکھے جانے تک ان سنگین الزامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا دہلی پولیس کی جانب سے کوئی رسمی ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم جنتر منتر پر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور معاملہ مسلسل طول پکڑتا جا رہا ہے، جس کے آنے والے دنوں میں سیاسی اور سماجی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




