کاروار : ضلع انچارج وزیر منکال ایس ویدیا نے حکام کو سخت ہدایت دی ہے کہ ضلع کے کسی بھی حصے میں پینے کے پانی کی قلت پیدا نہ ہونے دیں اور عوامی شکایات پر فوری ردعمل ظاہر کریں۔
منگل کے روز کمٹہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت دی کہ جہاں پانی کے قدرتی ذرائع خشک ہو چکے ہیں وہاں فوری طور پر ٹینکرز کے ذریعے فراہمی شروع کی جائے اور ٹینکر مالکان کو 15 دن کے اندر ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں۔
وزیر موصوف نے ‘جل جیون مشن’ کے تحت نل کنکشنز کے باوجود پانی کی سپلائی میں ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر تعلقہ میں 100 کروڑ روپے کے کام جاری ہونے کے باوجود ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے، ٹاسک فورس کو پہلے ہی 25 لاکھ روپے فی تعلقہ جاری کیے جا چکے ہیں اور مزید 3 کروڑ روپے جلد دستیاب ہوں گے۔
اس موقع پر رکن اسمبلی بھیمنا نائیک نے سرسی اور سدھاپور کی 33 گرام پنچایتوں میں پانی کے شدید بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے تحصیلدار دفاتر میں ہیلپ لائن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
قومی شاہراہ کے حوالے سے وزیر منکال ویدیا نے کاروار سے بھٹکل تک کے کام میں 15 سالہ تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی اور سرسی-ہاویری شاہراہ پر برسات سے قبل ڈامبر کی ایک تہہ بچھانے کی ہدایت دی تاکہ مسافروں کو گرد و غبار اور خراب سڑک سے نجات مل سکے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو حکم دیا کہ برسات سے قبل نالیوں کی صفائی، بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کا اسٹاک یقینی بنائیں اور اسکولوں و عوامی مقامات پر موجود خطرناک درختوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ میٹنگ میں رکن اسمبلی دنکر شیٹی، ایس پی دیپن ایم این، ایڈیشنل ڈی سی ساجد ملا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔




