مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بن گیا ہے، جہاں وزیر اعظم Narendra Modi نے اعلان کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد یو سی سی نافذ کرے گی تاکہ “خوشامدی سیاست” کا خاتمہ کیا جا سکے، جبکہ وزیر اعلیٰ Mamata Banerjee نے اس اقدام کو “خطرناک” قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کولکاتا میں بی جے پی کے منشور کے اجرا کے بعد وزیر اعظم مودی نے مرشدآباد کے جنگی پور میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یو سی سی کے نفاذ سے ریاست میں جاری خوشامدی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس انتخاب کو ریاست کی شناخت اور مستقبل کے تحفظ کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قومی سلامتی اور یکساں قوانین کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ اس سے ایک دن قبل مرکزی وزیر داخلہ Amit Shah نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو چھ ماہ کے اندر یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ممتا بنرجی نے بی جے پی کے اس وعدے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یو سی سی لوگوں کے مذہبی حقوق کو محدود کر دے گا۔ انہوں نے مغربی مدنی پور میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون عوام کی ثقافت، روایت اور تعلیمی شناخت کو متاثر کرے گا اور ملک کی تنوع پر مبنی ساخت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یو سی سی دراصل مختلف مذہبی برادریوں کے ذاتی قوانین کو ختم کر کے ایک ہی نظام مسلط کرنے کی کوشش ہے، جس کی ان کی پارٹی بھرپور مخالفت کرے گی۔
واضح رہے کہ یکساں سول کوڈ سے مراد ایک ایسا مشترکہ قانون ہے جو شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات میں تمام شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ اس وقت بھارت میں مختلف مذاہب اور قبائلی گروہوں کے لیے الگ الگ پرسنل لا موجود ہیں، جو ان کے مذہبی اصولوں پر مبنی ہیں۔ بی جے پی طویل عرصے سے یو سی سی کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائے ہوئے ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اقلیتوں کے روایتی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو جنوری 2025 میں Uttarakhand یو سی سی نافذ کرنے والی آزادی کے بعد پہلی ریاست بن چکی ہے، جبکہ Gujarat میں بھی اس حوالے سے قانون سازی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ Goa میں پرتگالی دور سے ہی یکساں سول کوڈ نافذ ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی سے سماجی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اقلیتی برادریوں کے لیے۔
اس سیاسی کشمکش کے درمیان مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ اس دوران ممتا بنرجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے ان کی امیدواری کو منسوخ کرانے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق پارٹی کارکنان اور عوام نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یہ تنازع نہ صرف بنگال کی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں یو سی سی کو لے کر مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی حلقے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔




