مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے سابقہ ترنمول کانگریس حکومت کی جانب سے بقرعید کے موقع پر دی جانے والی دو روزہ تعطیل کو منسوخ کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کے نئے احکامات کے بعد اب عید الاضحیٰ پر صرف جمعرات، اٹھائیس مئی کو عوامی تعطیل ہوگی۔ اس سے قبل منگل اور بدھ کو بھی چھٹیوں کا حصہ قرار دیا گیا تھا جسے اب واپس لے لیا گیا ہے۔
ریاستی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری دفاتر اور ادارے منگل اور بدھ کو معمول کے مطابق کام کریں گے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق عید الاضحیٰ اٹھائیس مئی کو منائی جائے گی اور اسی دن سرکاری تعطیل نافذ العمل ہوگی۔ چھٹیوں میں کٹوتی کا یہ فیصلہ ریاستی ملازمین اور تہوار کی تیاریوں میں مصروف مسلم کمیونٹی کے لیے ایک اچانک تبدیلی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ انتظامی پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کلکتہ ہائی کورٹ نے بقرعید سے قبل جانوروں کی قربانی کو ریگولیٹ کرنے والے ریاستی حکومت کے ایک اور نوٹیفکیشن پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ چار مئی کو اقتدار سنبھالنے کے بعد، شبھیندو ادھیکاری کی قیادت والی نئی حکومت نے تیرہ مئی کو اپنے ابتدائی فیصلوں میں واضح کر دیا تھا کہ ریاست میں اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ کی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
نئے سرکاری احکامات کے تحت گائے، بیل اور بھینس جیسے جانوروں کی قربانی سے قبل متعلقہ حکام سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کھلے اور عوامی مقامات پر جانوروں کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے معائنہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس معاملے پر سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ گائے کی قربانی عید کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ تعطیلات میں کٹوتی اور قربانی کے حوالے سے نئے ضوابط کے نفاذ نے ریاستی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان فیصلوں کا براہ راست اثر مسلم کمیونٹی کی تہوار کی روایات اور انتظامات پر پڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمیونٹی کے رہنما اور عام شہری ان نئے قانونی اور انتظامی فیصلوں کے دائرے میں رہ کر اپنے تہوار کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔


