کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اور رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے باضابطہ مطالبہ کیا ہے کہ ورنگل میں زیر تعمیر مامنور ہوائی اڈے کا نام 1857 کی جنگِ آزادی کے عظیم ہیرو سید علاؤ الدین حیدر المعروف مولوی علاؤ الدین کے نام پر رکھا جائے۔ یہ مطالبہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے 19 ستمبر کو سوشل میڈیا پر عوام سے ہوائی اڈے کے موزوں نام کے لیے تجاویز طلب کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اویسی نے وزیر اعلیٰ کے نام ارسال کردہ ایک مفصل مکتوب میں اس تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جو تلنگانہ اور حیدرآباد کے خطے کو برطانوی سامراج کے خلاف اولین مزاحمت کاروں کے ساتھ جوڑتی ہے۔
اپنے خط میں اسد الدین اویسی نے تاریخی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ہوائی اڈہ اصل میں 1930 کی دہائی کے دوران نظامِ حیدرآباد کے عہدِ حکومت میں اعظم جاہی ملز سمیت مقامی صنعتوں کی نقل و حمل اور اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غیر منقسم ورنگل ضلع سے تعلق رکھنے والے مولوی علاؤ الدین نے 17 جولائی 1857 کو مجاہدِ آزادی ترے باز خان کے ساتھ مل کر کوٹھی میں واقع برطانوی ریزیڈنسی پر تاریخی حملے کی قیادت کی تھی۔ اس دلیرانہ معرکے کے نتیجے میں انگریز حکمرانوں نے انہیں گرفتار کر کے کالا پانی یعنی انڈمان کی بدنام زمانہ سیلولر جیل بھیج دیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی پوری زندگی قید و بند کی بے مثال صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے وطن کی آزادی کے لیے قربان کر دی۔
مجلسِ اتحاد المسلمین کے سربراہ نے زور دیا کہ جنوبی ہند، بالخصوص سابق ریاستِ حیدرآباد کی جنگِ آزادی میں مسلم مجاہدین کی خدمات تاریخ کا ایک روشن باب ہیں جنہیں قومی سطح پر شایانِ شان اعتراف ملنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورنگل کے ہوائی اڈے کو مولوی علاؤ الدین کا نام دینا خطے کے مشترکہ ورثے اور ان کی عظیم قربانیوں کے لیے ریاست کی طرف سے ایک سچا اور باوقار خراجِ عقیدت ہوگا۔ مسلم نمائندگی اور غیر جانبدار تاریخ دانوں کا بھی ماننا ہے کہ تحریکِ آزادی میں جانیں نچھاور کرنے والے مسلم رہنماؤں کے کردار کو سرکاری منصوبوں، عمارتوں اور ہوائی اڈوں کے ناموں کے ذریعے عوامی یادداشت کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی عوامی اپیل کے بعد نام کے انتخاب کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ مشہور فلم ڈائریکٹر سندیپ ریڈی وانگا نے کاکتیا سلطنت اور ملکہ رودراما دیوی کی ثقافتی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے ‘رودراما انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ یا ‘کاکتیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ کا نام پیش کیا ہے۔ دوسری طرف سی پی آئی کے سینئر رہنما کے نارائنا نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے آبائی تعلق کی بنیاد پر ان کا نام تجویز کیا ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر کوئلہ و کان کنی جی کشن ریڈی نے تصدیق کی ہے کہ ہوائی اڈے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ اور عمارتوں کا لے آؤٹ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اراضی باضابطہ طور پر ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے سپرد کی جا چکی ہے، جس کے سنگِ بنیاد کی تقریب وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھوں متوقع ہے۔




