اتر پردیش: ووٹر لسٹ کی سنگین غلطی پر اقلیتوں کے خلاف طنزیہ تبصرہ، عوامی غم و غصے کے بعد چیف الیکٹورل افسر نے مانگی معافی

اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل سے اقلیتوں اور ذات پات کے حوالے سے کی گئی طنزیہ و تلخ پوسٹ پر شدید عوامی ردعمل کے بعد باضابطہ معذرت نامہ جاری کیا ہے۔ انتخابی ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تسلیم کیا گیا کہ سرکاری پلیٹ فارم سے اختیار کیا گیا یہ لب و لہجہ غیر مناسب اور وقار کے منافی تھا۔ بیان کے مطابق اس غیر ذمہ دارانہ پوسٹ سے جن شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ان سے مخلصانہ معافی مانگی جاتی ہے، ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ آئندہ مواصلاتی رابطوں میں وقار، متانت اور رسمی ابلاغ کو برقرار رکھا جائے گا۔

یہ تنازع قانون ساز کونسل کے حالیہ انتخابات سے قبل الہ آباد-جھانسی گریجویٹ حلقے کی ووٹر لسٹ میں سامنے آنے والے عجیب و غریب اندراجات کے بعد شروع ہوا۔ ووٹر روی شرما کی ووٹر پرچی پر والد کے خانے میں ’رام نے شرما کو مارا‘ درج پایا گیا، جبکہ اس سے قبل ایک دوسری پرچی پر ’رام ہت یادو‘ کے نام کی جگہ ’رام نے یادو کو مارا‘ لکھا ہوا ملا۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ نے ووٹر لسٹ میں اس قسم کے نام ظاہر ہونے پر سخت اعتراض درج کرایا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن کا سسٹم اور ڈیٹا سافٹ ویئر دانستہ طور پر مخصوص طبقات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

سنجے سنگھ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یوپی کے چیف الیکٹورل افسر کے مصدقہ ہینڈل نے روی شرما کی ووٹر پرچی شیئر کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ تکنیکی غلطی ہے، لیکن اسی دوران پوسٹ میں ایک ایسا جملہ شامل کر دیا گیا جس نے نیا محاذ کھول دیا۔ سرکاری ہینڈل نے تحریر کیا کہ شکر ہے رام نے کسی اقلیت کو نہیں مارا، ورنہ فرقہ وارانہ ہونے کا الزام لگتا۔ ایک غیر جانبدار اور آئینی ادارے کے ترجمان ہینڈل سے اقلیتی برادری کو بطور طنز گھسیٹنے پر سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور قانونی ماہرین نے سخت ناراضگی ظاہر کی اور اسے اقلیتوں کے تئیں سرکاری مشینری کی غیر سنجیدہ اور توہین آمیز سوچ قرار دیا۔

تکنیکی وضاحت میں حکام نے واضح کیا کہ انگریزی ناموں کو صوتی اصولوں کے بجائے کمپیوٹر سافٹ ویئر کے لفظی ترجمے کے باعث یہ سنگین دفتری غلطی ہوئی۔ ’رام ہت یادو‘ میں موجود لفظ ’ہت‘ کو سافٹ ویئر نے انگریزی کا لفظ ’ہٹ‘ (Hit) سمجھ کر اس کا ہندی ترجمہ ’مارنا‘ درج کر دیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کل 14 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ووٹر اندراجات میں سے اب تک اس نوعیت کی 158 سنگین غلطیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

انتخابی کمیشن نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان انتظامی اور دفتری لغزشوں کی بنیاد پر کسی بھی حقیقی ووٹر کو اس کے بنیادی حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ پولنگ اسٹیشن پر اصل شناختی ثبوت دکھانے کے بعد ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی مکمل اجازت ہوگی۔ تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ معافی مانگ لینا کافی نہیں ہے بلکہ سرکاری ہینڈل سے ایسی حساس اور متنازعہ زبان استعمال کرنے والے مخصوص عہدیداروں کا تعین کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔

شیئر کریں۔