یوپی میں انتخابات سے قبل اوچھی سیاسی مہم ، مقتول عتیق احمد،اعظم خان اور مختارانصاری کی تصویر والے پوسٹر لگا کر انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش

اتر پردیش میں ضمنی انتخابات کی گہما گہمی کے درمیان سیاسی تناؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ریاست کے متعدد اضلاع میں سماج وادی پارٹی اور اس کے سربراہ اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشہیری پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔ ان پوسٹرز میں سماج وادی پارٹی کے دورِ حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے سابق اراکینِ اسمبلی و پارلیمان اور معروف شخصیات کی تصاویر کو نمایاں کیا گیا ہے، جس کے ذریعے حزبِ اختلاف پر ماضی میں جرائم پیشہ عناصر کو مبینہ تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق دارالحکومت لکھنؤ کے علاوہ سیتا پور، بریلی، مرزا پور، غازی پور، غازی آباد اور پریاگ راج سمیت کئی حساس اور انتخابی اعتبار سے اہم علاقوں میں یہ مواد نصب کیا گیا ہے۔ مہم کے دوران سابق رکنِ اسمبلی مرحوم مختار انصاری، سابق رکنِ پارلیمان مرحوم عتیق احمد، اعظم خان اور سابق رکنِ پارلیمان دھننجے سنگھ جیسے چہروں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ بعض انتخابی حلقوں جیسے کرہل، کھتولی اور مین پوری میں یہ پوسٹرز عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ رام پور اور اعظم گڑھ میں برجیش سنگھ اور ارون سنگھ کی تصاویر بھی اس بیانیے کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔ مئو کے گھوسی اسمبلی حلقے میں مختار انصاری کے اہلِ خانہ کی تصاویر بھی پوسٹرز کی زینت بنائی گئی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے ضمنی انتخابات کے اس مرحلے پر ماضی کی سماج وادی حکومت کے دوران امن و امان کی صورتِ حال کو انتخابی موضوع بنانے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ دوسری جانب غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہمات میں مخصوص مسلم رہنماؤں اور ماضی کے متنازع کرداروں کو بار بار سامنے لانا نہ صرف سیاسی پولرائزیشن کو ہوا دیتا ہے بلکہ حقیقی عوامی مسائل جیسے بے روزگاری، کسانوں کی مشکلات، مہنگائی اور بنیادی شہری حقوق سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

سماج وادی پارٹی نے اس قسم کے ہتھکنڈوں پر بالواسطہ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کا اتحاد حکمراں جماعت کے لیے سیاسی تشویش کا سبب بن رہا ہے۔ حزبِ اختلاف کے حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی میدان میں جب ترقیاتی کارکردگی پر سوال پوچھے جاتے ہیں تو حکمران طبقہ اکثر مافیا اور پرانے مقدمات کی گرد اڑا کر رائے عامہ کو تقسیم کرنے کی راہ اپناتا ہے۔ اگرچہ اس حالیہ پوسٹر تنازع پر سماج وادی پارٹی کی قیادت کی جانب سے باضابطہ قانونی یا تنظیمی کارروائی سے متعلق تفصیلی بیان کا انتظار ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ گرم بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

جمہوری تقاضوں اور انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت اس بات کو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ مہمات عوامی فلاح، آئینی حقوق اور قانون کی بالادستی پر مرکوز رہیں، نہ کہ کسی مخصوص کمیونٹی یا ماضی کے کرداروں کو مستقل منفی پروپیگنڈے کا ایندھن بنایا جائے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی تشہیر کے اخلاقی معیارات اور مواد کی جانچ پر نظر رکھی جائے گی تاکہ پرامن اور شفاف ماحول میں رائے دہی کا عمل مکمل ہو سکے۔

شیئر کریں۔