ٹرمپ اور پیوٹن میں ٹیلیفونک رابطہ کل متوقع، یوکرین جنگ بندی پر بات چیت ہوگی

واشنگٹن: (فکروخبر/ذرائع)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفون پر بات کریں گے تاکہ یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس گفتگو کا مقصد یوکرین میں جاری "خونریزی” کو روکنا ہے، جہاں ہر ہفتے تقریباً 5,000 فوجی ہلاک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیوٹن سے بات چیت کے بعد یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور نیٹو رہنماؤں سے بھی بات کریں گے تاکہ جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں ترکی میں روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں روسی صدر پیوٹن نے شرکت سے انکار کر دیا تھا، جس پر کییف نے ماسکو کی امن کے لیے سنجیدگی پر سوالات اٹھائے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں روبیو نے قیدیوں کے تبادلے اور امریکی امن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ پیر کا دن نتیجہ خیز ہوگا اور جنگ بندی کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹن سے ان کے اچھے تعلقات ہیں اور امن معاہدہ ممکن ہے۔

دوسری جانب، روسی صدر پیوٹن نے یوکرین سے تمام متنازعہ علاقوں سے فوجی انخلا کا مطالبہ کیا ہے، جو کہ جنگ بندی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب یوکرین نے روس کے سب سے بڑے ڈرون حملے کا سامنا کیا ہے، جس میں کییف اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع کے حل کے لیے کی جانے والی کوششیں عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، اور ان کی کامیابی یا ناکامی خطے میں امن کے امکانات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ترکیہ کو بحیرہ اسود میں 30 بلین ڈالر کی گیس کے ذخائر کی بڑی دریافت

سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک کا نیتن یاہو حکومت کے خلاف شہری بغاوت کا مطالبہ