ایران جنگ کا حصہ بننے سے برطانیہ کا انکار ، ٹرمپ نے کہا ایسی امید نہیں تھی

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں برطانیہ کی عدم حمایت پر برطانوی وزیر اعظم Keir Starmer کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معروف ’’اسپیشل ریلیشن شپ‘‘ دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کا سخت بیان
صدر ٹرمپ نے کہا:“وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے… میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ برطانیہ سے ایسا دیکھوں گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے ،’’یہ ایک مختلف دنیا ہے… یہ وہ تعلق نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔”
ٹرمپ نے اس اتحاد کو ماضی میں “سب سے مضبوط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ شراکت داری اس طرح دباؤ میں آئے گی۔
برطانیہ کی پوزیشن
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت میں برطانوی حکومت نے ایران کے خلاف امریکی جنگی کارروائی میں براہِ راست شمولیت اختیار نہیں کی۔ برطانیہ نے سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔
یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کھلی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
’’اسپیشل ریلیشن شپ‘‘ پر سوال؟
امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کو طویل عرصے سے ’’خصوصی تعلقات‘‘ کہا جاتا ہے، خصوصاًعراق اور افغانستان جنگ میں مشترکہ کارروائیاں،نیٹو کے تحت دفاعی تعاون،انٹیلی جنس شراکت داری