ترنمول کانگریس لیڈران نشانے پر، ابھیشیک بنرجی کے بعد اب کلیان بنرجی پر حملہ

مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی اور تشدد کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ہگلی ضلع کے چنڈی تلا پولیس اسٹیشن کے باہر اس وقت زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا جب ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کی قیادت میں ایک وفد اپنے گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کرنے پہنچا۔ اس دوران مظاہرین کے ایک گروہ نے کلیان بنرجی کا گھیراؤ کیا اور ان پر مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ سڑک پر گر گئے۔

ابتدائی معلومات اور موصولہ رپورٹس کے مطابق کلیان بنرجی اپنے حامیوں کے ہمراہ میمورنڈم پیش کرنے کے ارادے سے تھانے پہنچے تھے۔ وہاں موجود ایک ہجوم نے انہیں کالے جھنڈے دکھائے اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔ حالات اس وقت بے قابو ہو گئے جب دور سے پھینکا گیا ایک پتھر سیدھے کلیان بنرجی کے سر پر لگا۔ سر پر چوٹ لگنے کے باعث وہ اپنا توازن کھو بیٹھے اور سڑک پر گر پڑے۔ جائے وقوعہ پر موجود سیکورٹی اہلکاروں اور ان کے حامیوں نے فوراً انہیں سہارا دینے اور بچانے کی کوشش کی۔

اس حملے کے فوراً بعد ٹی ایم سی رہنما نے بی جے پی کارکنان پر اس پرتشدد واقعے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محض ایک روز قبل ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر بھی اسی نوعیت کا سنگین حملہ ہوا تھا۔ ابھیشیک بنرجی جنوبی چوبیس پرگنہ کے علاقے سونارپور میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کے متاثرین بالخصوص ٹی ایم سی کارکن سنجو کرماکر سے ملاقات کے لیے گئے تھے۔

سونارپور واقعے میں ایک بے قابو بھیڑ نے ابھیشیک بنرجی پر انڈوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا تھا، یہاں تک کہ انہیں اپنی جان بچانے کے لیے کرکٹ ہیلمٹ کا سہارا لینا پڑا۔ اس پرتشدد ہجوم نے ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے تھے، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے انہیں بحفاظت وہاں سے نکالا۔ اب چوبیس گھنٹے کے اندر پارٹی کے ایک اور سینئر رہنما پر حملے نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

چنڈی تلا پولیس اسٹیشن کے باہر پیش آنے والے اس تازہ واقعے کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے اور امن بحال کرنے کے لیے موقع پر بھاری پولیس فورس اور مرکزی سیکورٹی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ریاستی انتظامیہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں جلد ہی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ لگاتار حملے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئی تلخی اور تصادم کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔

شیئر کریں۔