ٹی سی ایس کیس: ندا خان کی پیشگی ضمانت مسترد

مہاراشٹر کے شہر ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) جیسی معروف ملٹی نیشنل کمپنی میں مبینہ جنسی ہراسانی اور جبری تبدیلی مذہب کے سنسنی خیز معاملے میں ندا خان کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ ناسک روڈ کورٹ نے قانونی کارروائی اور الزامات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ندا خان کی عبوری پیشگی ضمانت کی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے نے پولیس کے لیے ملزمہ کی گرفتاری کا راستہ صاف کر دیا ہے اور کسی بھی وقت بڑی کارروائی متوقع ہے۔

اس اہم قانونی لڑائی کے دوران ندا خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی موکلہ حاملہ ہیں، لہٰذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ گزشتہ 27 اپریل کو اس درخواست پر استغاثہ اور صفائی کے وکلاء کے درمیان طویل اور تلخ بحث ہوئی تھی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے دلیل دی کہ ندا خان اس پورے گروہ کی مرکزی کڑی ہیں اور انہیں ضمانت دینے سے نہ صرف تفتیش متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اہم شواہد کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

عدالت نے ہفتہ کے روز اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ندا خان کے خلاف عائد الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ جس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، ان میں ملزمہ کو کسی بھی قسم کی رعایت دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔ عدالت کا فیصلہ آتے ہی پولیس نے مفرور ندا خان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب ندا خان کی قانونی ٹیم نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نچلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ٹی سی ایس ناسک کی بعض خواتین ملازمین نے الزام لگایا کہ کمپنی کے اندر ایک منظم گروہ خواتین کا جنسی استحصال کر رہا ہے اور انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی تھی جو گہرائی سے اس اسکینڈل کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایس آئی ٹی اب تک اس نیٹ ورک سے وابستہ سات افراد کو گرفتار کر چکی ہے، تاہم مرکزی سازشی کے طور پر نامزد ندا خان واقعے کے بعد سے روپوش ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ندا خان کی گرفتاری سے اس کیس میں کئی مزید بڑے انکشافات ہونے کی توقع ہے، خاص طور پر اس بات کا تعین کیا جا سکے گا کہ اس گروہ کے تار کہاں کہاں جڑے ہوئے ہیں اور کیا کمپنی کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی اس میں ملوث ہیں۔ انتظامیہ نے کمپنی کے اندر حفاظتی انتظامات اور کارپوریٹ کلچر پر بھی نظر ثانی شروع کر دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔