طالبان کا خونی انتقام

یہ امریکہ اور یورپ کے مخالف ہیں ۔ لیکن نہ جانے انہیں یہ کیا ہوگیا ہے گذشتہ چند سالوں سے اسلام دشمنوں سے برسرپیکار ہونے کے بجائے اسلام کے نام لیواؤں کا ہی قتل عام کررہے ہیں ۔ مسجدوں میں بم بلاسٹ کرکے دوران نماز بندگان خدا کو موت کی نیند سلارہے ہیں ۔ مدرسوں میں حملے کرکے اسلامی علوم کی تحصیل میں مصروف مہمانان رسول کو موت کے گھاٹ اتاررہے ہیں تو کبھی اسکول و کالجز پر حملہ کرکے وہاں زیر تعلیم بچوں کو خون کی ندیوں میں نہلارہے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پرطالبان نے دہشت گردانہ حملے کرکے معصوموں کو خون میں نہلادیا ہے ۔حملے میں132سے زائدبچے ہیں جبکہ کچھ ملازمین بھی شامل ہیں ۔ تادم تحریر142 افرادکے شہید ہونے کی اطلاع ہے ۔ 245سے زائدزخمی ہوگئیے ہیں۔ اس دہشت گردانہ حملہ کی ذمہ داری تحریک اے طالبان پاکستان نام کی تنظیم نے قبول کی ہے اور اس نے اس کوعمل کا ردعمل بتاتے ہوئے کہاہے کہ یہ حملہ جہادیوں کے خاندانوں پر حملے کا بدلہ ہے۔ یہ ضرب عضب کا خونی انتقام ہے ۔طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے یہ بھی کہا کہ یہ حملہ افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کے جواب میں کیا گیا ہے ۔اس نے کہاکہ ہم نے اسکول کو نشانہ بنایا، کیونکہ فوج ہمارے خاندانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا دردمحسوس کریں۔ یہاں پڑھنے والے یہ تمام بچے انہیں فوجیوں کے ہیں ۔ حملہ کے بعد یہ بچے اپنے باپ کو حملہ کرنے سے روکیں گے ۔ وہ اپنا ضرب عضب آپریشن بند کریں گے ۔
حالیہ حملے نے پاکستان کی حکومت اور وہاں کی فوج پر بھی سوالیہ نشان قائم کردیا ہے کہ آخر حکومت طالبان اور اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شکنجہ کسنے میں ناکام کیوں ہے ؟ ۔ مہینوں سے طالبان کی خلاف جاری ضرب آپریشن کے باوجود طالبان کے پاس اتنی طاقت وقوت کہاں سے آگئی ۔یہ حوصلہ کیسے مل گیا کہ اتنا بڑا حملہ کرکے اس نے دنیا کے سامنے پاکستان کی ایک اور خراب تصویر پیش کردی ۔اس کے دھندلاتے مستقبل کو پوری طرح تاریک بنادیا ۔اس حملے کے لئے طالبان کے ساتھ خود حکومت پاکستان بھی ذمہ دار ہے جو 68 سالوں سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی امن وسکون کی فضا قائم کرنے میں ناکام ہے ۔ اور مختلف حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع کاسلسلہ جاری ہے ۔ کبھی امریکی ڈروں حملوں میں بے گناہوں کی چیخ و پکار او رآہ وبکا سنائی دیتی ہے ۔ کبھی طالبان کے حملے میں بے قصوروں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ تو کبھی فوج ضر ب عضب کی آ ڑ میں بے گناہوں کا فتل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
طالبان کا یہ عمل شریعت اور اسلامی تعلیمات کے بھی سراسرخلاف ہے ۔ قرآن وحدیث میں کہیں بھی بے گناہوں کے قتل کی اجازت نہیں دی کئی ہے بلکہ اسے جرم عظیم بتایا گیا ہے اور اگر قاتل و مقتول دونوں مسلمان ہوں تو پھر یہ جرم بہت آگے تک پہچ جاتا ہے ۔چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
وقت قریب آجائے گا

«
»

ابھی انصاف بہت دور ہے

’’کن فیکون‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے