نئی دہلی میں واقع سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز قانونی پیش رفت کے تحت واضح کیا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند گانے سے اگر کوئی شخص مذہبی یا اپنے ضمیر کی بنیاد پر انکار کرتا ہے تو اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مجرمانہ کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ نے معروف کرناٹک کلاسیکل موسیقار ٹی ایم کرشنا کی آئینی رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے آزادیٔ ضمیر اور مذہبی حقوق کے تحفظ کو بنیادی قرار دیتے ہوئے ریاستی جبر کی گنجائش کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
سماعت کی بنیاد دراصل پارلیمنٹ کی جانب سے قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971ء میں کی گئی اس متنازع ترمیم کے خلاف دائر درخواست ہے جس کے تحت قومی ترانے کے ساتھ ساتھ اب قومی گیت ’وندے ماترم‘ کو بھی فوجداری دائرہ کار میں شامل کر دیا گیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت قومی ترانے یا گیت کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے یا اسے جان بوجھ کر روکنے پر تین سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے فوراً بعد وزارتِ داخلہ نے سرکاری تقاریب، اسکولوں اور ثقافتی اجتماعات میں وندے ماترم کے مکمل چھ بند گانا لازمی قرار دینے کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔ درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان ہدایات اور قید کی سزا کے خوف نے مل کر شہریوں کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں پر شدید ضرب لگائی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے بنچ کے سامنے دستاویزی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وندے ماترم کے ابتدائی دو بند وطن کی خوبصورتی اور اس کی سرسبز شادابی کے اعتراف پر مشتمل ہیں، جب کہ آخری چار بندوں میں دیوی درگا، لکشمی اور سرسوتی کی پرستش اور مذہبی استعارے شامل ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 25 اور 26 ہر شہری کو اپنے عقیدے اور توحید پر قائم رہنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر توحید پرست طبقات کے نزدیک خدا کے سوا کسی دوسرے وجود کی عبادت یا اس کے سامنے جھکنا ان کے بنیادی عقیدے کے منافی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1937ء میں ان ہی حساس مذہبی پہلوؤں اور سماجی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس کے قومی اجلاس میں متفقہ طور پر صرف پہلے دو بندوں کو گانے کی روایت قائم کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 1986ء کے مشہور بیجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ مقدمے کے نظیر کا خاص طور پر حوالہ دیا۔ اس تاریخی فیصلے میں عدالت نے یہ سنہری اصول وضع کیا تھا کہ اگر کچھ اسکول کے بچے مذہبی وجوہات کی بنا پر قومی ترانہ زبانی نہیں گاتے لیکن اس کے احترام میں خاموشی سے باادب کھڑے رہتے ہیں تو ان پر حب الوطنی کی کمی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا اور نہ ہی انہیں اسکول سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ بنچ نے دو ٹوک الفاظ میں یاد دلایا کہ وہی قانونی اصول یہاں بھی پوری قوت سے نافذ ہوتا ہے، اور کسی بھی شخص کو اپنے مذہبی عقیدے یا اخلاقی ضمیر کی پیروی کرنے پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔
عدالتِ عظمیٰ کا یہ عارضی مشاہدہ ملک کے کروڑوں مسلمانوں، اقلیتوں اور آئین پسند حلقوں کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور قانونی راحت ثابت ہوا ہے، جنہیں ماضی قریب میں قومی گیت کے نام پر سیاسی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے سامنے اصل سوال گیت کے بندوں کی تعداد کا نہیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہریوں کو مذہبی جذبات کے خلاف گانے پر مجبور کرنے کے لیے فوجداری سزاؤں کا سہارا لے سکتی ہے یا نہیں۔ اب نگاہیں مرکزی حکومت کے دو ہفتوں میں داخل ہونے والے جوابی حلف نامے پر ٹکی ہیں، جس کے بعد اس معاملے کی آئندہ سماعت کی جائے گی۔




