رام پور: جوہر یونیورسٹی کو مسمار کرنے کے حکم کے خلاف احتجاج میں شدت، سکھوں کی تنظیمیں بھی اتریں میدان میں

اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کی ممکنہ مسماری کو لے کر تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے یونیورسٹی کے بڑے حصے کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرنے کا حکم جاری کیے جانے کے بعد نہ صرف طلبہ احتجاج کر رہے ہیں بلکہ اب دیگر سماجی اور سیاسی طبقات بھی ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے قومی سکریٹری کولدیپ سنگھ بھلر کی قیادت میں سکھ برادری کے ایک وفد نے جامعہ کے کیمپس کا دورہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا اور حکومت کے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما کولدیپ سنگھ بھلر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی بغض اور انتقام کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوہر یونیورسٹی گرام سماج کی زمین پر تمام تر قانونی ضوابط اور نقشہ جات کی منظوری کے بعد تعمیر کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے اس اہم تعلیمی ادارے کو تباہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی اور سکھ برادری تعلیم کے اس مرکز کو بچانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرے گی۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے اندر طلبہ کا احتجاج مسلسل چوتھے دن بھی جاری رہا۔ کیمپس کے گیٹ نمبر 4 پر دھرنا دینے والے طلبہ اور طالبات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تعمیرات میں کسی قسم کی انتظامی خامیاں یا تکنیکی بے قاعدگیاں موجود بھی ہیں تو ان پر جرمانہ عائد کر کے انہیں باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جائے، نہ کہ تعلیم کے اس عظیم مرکز پر بلڈوزر چلایا جائے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی مسماری سے یہاں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ فارمیسی کے طلبہ نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ بلڈوزر کا سامنا کریں گے اور بھوک ہڑتال پر بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جوہر یونیورسٹی کی کل 40 عمارتوں میں سے 38 عمارتوں کو بغیر کسی سابقہ منظوری کے تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ اور اندرونی سڑک کو عوامی شاہراہ قرار دیتے ہوئے مین گیٹ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ فائر برگیڈ اور انکم ٹیکس جیسے دیگر سرکاری شعبوں کی جانب سے بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ادارے پر انتظامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقلیتی اداروں کی بقا اور تعلیمی آزادی کے حوالے سے فعال مختلف سماجی حلقوں نے اس پیشرفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی کھینچ تان سے دور رکھا جانا چاہیے۔ عوامی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہزاروں طلبہ کی تعلیم کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے قانونی اور انتظامی راستوں کے ذریعے تنازع کا حل نکالنا ہی ریاست اور شہریوں کے مفاد میں ہے۔

آنے والے دنوں میں اگر رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ریاستی حکومت نے اپنے فیصلے پر ازسرنو غور نہ کیا تو سماج وادی پارٹی اور دیگر اتحادی تنظیموں کی جانب سے اس احتجاج کو ریاست گیر سطح پر پھیلانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ قانونی سطح پر بھی اس حکم نامے کو چیلنج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں۔