بھٹکل(فکروخبرنیوز) بھٹکل کے شرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (CHC) میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ جہاں ایک طرف تین دن کی نوزائیدہ بچی کی موت پر اہل خانہ نے طبی لاپرواہی کے الزامات عائد کیے تھے، وہیں دوسری طرف علاج کے دوران ہسپتال کے اندر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور ٹرینی ڈاکٹر پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور طبی عملے پر ہاتھ اٹھانے اور ہنگامہ آرائی کرنے والے ذمہ دار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق، شرالی کے رہنے والے ستیش راما نائک کے ہاں 27 اکتوبر کو دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جو تین دن بعد ہسپتال میں انتقال کر گئی تھی۔ بچی کی موت سے دلبرداشتہ ہو کر اہل خانہ اور رشتہ داروں نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ واقعے کے بعد ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے بھٹکل رورل پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی گئی ہے، جبکہ متوفی بچی کے اہل خانہ کی جانب سے بھی ڈاکٹروں کے خلاف جوابی شکایت درج کروائی گئی ہے۔
اس ناخوشگوار واقعے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی سلامتی کا مسئلہ ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے دی گئی شکایات کی روشنی میں معاملے کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




