سپریم کورٹ نے نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے قانونی دستاویز فارم 6 میں کسی بھی قسم کی رد و بدل یا اضافی شرائط کی توثیق کرنے کے تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے। نئی دہلی میں چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بینچ نے پیر کو ایک اہم سماعت کے دوران زبانی ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت عظمیٰ نے فارم 6 میں کسی ترمیم کی منظوری نہیں دی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت دی کہ جب الیکشن کمیشن کا باضابطہ ریکارڈ پیش کیا جائے گا تو اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ اس فارم میں تبدیلیاں کس نے اور کس اختیار کے تحت کیں۔
یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 26 ستمبر کو جاری کیے گئے ایک اعلامیے کے بعد سامنے آیا، جس میں پول پینل نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم کے دوران فارم 6 کے ساتھ منسلک کیا گیا اضافی حلف نامہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے۔ عدالت کے سامنے دائر عرضیوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے باقی کمشنران کی باضابطہ منظوری اور قانونی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کیے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ الیکٹرز رولز 1960 کے تحت طے شدہ قانونی فارم میں پارلیمانی یا ضابطہ جاتی عمل کے بغیر انتظامی سطح پر من مانی تبدیلیاں شامل کر دی گئیں، جس کے تحت نئے ووٹرز سے ان کے آباء و اجداد اور ماضی کی نظرثانی مہم کے حوالے سے غیر معمولی اعلانات مانگے جا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران سینئر وکلاء نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اس طریقہ کار سے پہلی بار ووٹ کا حق حاصل کرنے والے نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی رجسٹریشن متاثر ہو رہی ہے۔ دلائل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے اندرونی ذرائع کے مطابق دیگر الیکشن کمشنرز نے بھی ان تبدیلیوں پر تحریری تحفظات درج کرائے تھے۔ چیف جسٹس نے اس پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ معاملے کو واضح ہونا چاہیے اور جب اصل ریکارڈ سامنے آئے گا تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
جمہوری نظام میں رائے دہندگان کی فہرست کی شفافیت بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب اقلیتوں، نوجوانوں اور سماجی طور پر کمزور طبقات میں ووٹر لسٹوں سے نام خارج ہونے یا نئے اندراج میں پیچیدہ کاغذات کے نام پر مشکلات کے خدشات بڑھ رہے ہوں، ووٹر رجسٹریشن فارم میں بغیر قانونی منظوری کے تبدیلیاں انتہائی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے غیر جانبدارانہ تشخص اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفافیت لازمی امر ہے۔
سپریم کورٹ نے درخواستوں پر باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور مرکز سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت عظمیٰ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن کے انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ ہوگا کہ آیا یہ تبدیلیاں فوری طور پر کالعدم قرار دی جائیں گی یا کمیشن کو پرانے ضابطے پر واپس لوٹنے کا حکم دیا جائے گا।
آئین ہند ہر بالغ شہری کو ووٹ کا غیر مشروط اور بنیادی جمہوری حق فراہم کرتا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے نام پر کسی بھی انتظامی ادارے کی جانب سے بغیر قانونی دائرہ کار کے اضافی شرائط تھوپنا جمہوری تقاضوں کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری میں قانون کی بالادستی اور شفافیت کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔


