سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثی ڈرون و میزائل حملے: 3 افراد جاں بحق، 36 زخمی،

سعودی عرب کے دو اہم ترین بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے تازہ ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں تین عام شہری جاں بحق جبکہ چھتیس دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جنوبی صوبے عسیر کے ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو الگ الگ کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد سعودی عرب کے تمام بڑے ایئرپورٹس اور تیل تنصیبات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلا ت کے مطابق ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں دو غیر ملکی خواتین جاں بحق ہوئیں، جن کا تعلق مراکش اور الجزائر سے تھا، جبکہ اٹھائیس افراد شدید زخمی ہوئے۔ دوسری طرف دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک محنت کش لقمہ اجل بن گیا، اور آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں پانچ سعودی شہری بھی شامل ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور مسافروں کی حفاظت کے لیے تمام تر ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ریاض کے شمال میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اس لانچنگ پیڈ کو بھی فضائی کارروائی میں تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے سعودی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی عسکریت پسندوں نے عدن ایئرپورٹ پر بھی میزائل اور ڈرون داغے، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

شہری ہوائی اڈوں اور پرامن مسافروں کو نشانہ بنائے جانے کے اس سلسلے نے خطے میں عام شہریوں، بالخصوص عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے تحفظ پر گہرے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ کے قریب سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے ایندھن کے ذخائر کے ارد گرد حفاظتی باڑیں اور خصوصی حفاظتی نظام نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ دریں اثنا ریاض میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں غیر معمولی چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حساس سمندری اور فضائی راستوں پر جاری یہ محاذ آرائی خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عام شہریوں اور مسافر ہوائی اڈوں کو براہ راست جنگی نشانے پر لانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے اثرات عالمی ہوابازی اور خطے کی معاشی و سماجی بقا پر مرتب ہو رہے ہیں۔

شیئر کریں۔