ای ڈی، سی بی آئی اور سرکاری مشینری کا غلط استعمال: سنجے سنگھ نے بنگال میں بی جے پی کی جیت پر اٹھائے سوالات

عام آدمی پارٹی کے سینیئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج اور بی جے پی کی کارکردگی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت اور مرکزی ایجنسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے بنگال کے انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ جیت عوامی مینڈیٹ کے بجائے سرکاری مشینری، مرکزی فورسز اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے بے جا استعمال کا نتیجہ ہے۔ سنجے سنگھ نے ان حالات کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے براہ راست آمریت سے تشبیہ دی ہے۔

سنجے سنگھ نے انتخابی عمل کے دوران کیے گئے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کے پیچھے ای ڈی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن جیسی اکائیوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ مرکزی حفاظتی اہلکاروں کی تعیناتی اور ہزاروں کروڑ روپے کے اخراجات محض ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ڈی جی پی، چیف سیکرٹری، کلکٹرز اور پولیس سپرنٹنڈنٹ جیسے اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر نے ایک سنگین دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تقریباً 27 لاکھ ووٹرز کو ان کے بنیادی حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے اسے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا کسی بھی جمہوری ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ سنجے سنگھ کے مطابق جب تمام سرکاری وسائل اور ایجنسیوں کو مخالف جماعت کو دبانے کے لیے استعمال کر لیا گیا، تو اس کے بعد وزیر اعظم مودی اور میڈیا کی جانب سے جیت کا جشن منانا محض ایک ڈھونگ ہے۔

انہوں نے بھارتی میڈیا کے ایک حصے کو ’گودی میڈیا‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی کہ وہ حقائق کو چھپانے اور بی جے پی کی جیت کا فرضی جشن منانے میں مصروف ہے۔ سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ اگر کسی ریاست میں ایجنسیوں کے خوف اور افسران کی تبدیلی کے ذریعے انتخابات جیتے جاتے ہیں، تو پھر جمہوریت اور آمریت کے درمیان کیا فرق رہ جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگال کے یہ نتائج عوام کی حقیقی آواز نہیں بلکہ نظام پر قبضے کی ایک کوشش ہیں۔

بنگال کے سیاسی منظر نامے پر سنجے سنگھ کے اس بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے انتخابی مہم کے دوران مرکزی ایجنسیوں نے سرگرمی دکھائی، اس سے شفاف انتخابات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اپنے بیان کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہی موجودہ دور کی جمہوریت ہے، تو پھر دنیا کو آمریت کی نئی تعریف سیکھنے کی ضرورت ہے

شیئر کریں۔