بنگلہ دیش اور فرانس جیسی تحریکیں حل نہیں لاتیں: آر ایس ایس سربراہ کا عوامی مظاہروں پر بیان

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور کے ریشم باغ میدان میں تنظیم کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقتدار کی جبری تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک اور پڑوسی خطوں میں جاری عوامی بے چینی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو گرا دینے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔ سنگھ کے ایک سو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اس تقریب میں انہوں نے متنبہ کیا کہ بعض قوتیں بین الاقوامی بحرانوں کی طرز پر ملکی استحکام کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بنگلہ دیش، نیپال، فرانس اور البانیہ کے اندرونی انتشار کا ذکر کرتے ہوئے اسے مغرب سے اٹھنے والی لہر قرار دیا جو ہر قسم کے انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ محض چہرے یا قیادت تبدیل کر دینے سے زمینی حقائق میں کوئی ٹھوس بہتری نہیں آتی۔ ان کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جہاں حال ہی میں اس نوعیت کی ہنگامہ خیز تبدیلیاں لائی گئیں، وہاں کے حالات میں کوئی واضح مثبت پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی۔

جمہوریت میں عوامی ناراضگی اور دھرنوں کے حق کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ شہریوں کے مسائل اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تحریکیں ایک فطری عمل ہیں۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ کسی بھی عوامی احتجاج کی بنیادی سمت حل کی تلاش ہونی چاہیے، نہ کہ معاشرے میں گروہی منافرت یا باہمی خلیج کو گہرا کرنا۔ انہوں نے سیاسی قائدین اور سماجی حلقوں کو مشورہ دیا کہ وہ سستی شہرت یا وقتی مفادات کے زیر اثر آ کر ایسی فضا قائم نہ کریں جس سے قانون کی بالادستی اور اداروں کے وقار کو نقصان پہنچے۔

سنگھ سربراہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بین الاقوامی سطح پر بعض طاقتیں بھارت کی معاشی و اسٹریٹجک ترقی کو اپنے غلبے کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عناصر ملک کے داخلی اختلافات، طبقاتی ناہمواریوں اور محرومی کے احساسات کو بنیاد بنا کر نظام کے خلاف بدگمانی پھیلانے کے درپے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی نوجوان نسل میں حب الوطنی اور خود اعتمادی کی لہر پہلے سے زیادہ توانا ہے، جو بیرونی اور اندرونی منفی بیانیوں کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

ملک کے اندر آئینی حقوق اور جمہوری جدوجہد پر کام کرنے والے آزاد مبصرین کا خیال ہے کہ شہریوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے تحفظات کو محض بیرونی ایجنڈا یا انتشار قرار دینے کے بجائے ان کے بنیادی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ بھارت کے کثیر المذہبی اور جمہوری ڈھانچے میں عوامی مطالبات کی شنوائی اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہی سماجی ہم آہنگی کو قائم رکھ سکتا ہے۔ پارلیمانی نظام کے تحت عوام کے ووٹ اور پرامن جدوجہد کے ذریعے حق مانگنے کی آئینی ضمانت ہی دراصل ایک مستحکم جمہوریت کی روح ہے۔

شیئر کریں۔