مرکزی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی سفارش پر ۱۰ اور ۲۰ روپے مالیت کے ایک ایک ارب پولیمر (پلاسٹک) بینک نوٹ متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ ان نوٹوں کو ابتدائی طور پر فیلڈ ٹرائل کے طور پر مارکیٹ میں جاری کیا جائے گا، اور اس تجربے کی کامیابی و پائیداری کے بعد ان کی باقاعدہ وسیع پیمانے پر گردش کا فیصلہ کیا جائے گا۔ منگل کے روز راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے اس اہم مالیاتی پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ پولیمر نوٹوں کو مرحلہ وار طریقے سے بازار میں لایا جائے گا، تاہم اس دوران موجودہ کاغذی نوٹ بھی حسب معمول گردش میں رہیں گے اور انہیں فوراً بند نہیں کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے حکام کے مطابق پولیمر نوٹوں کی خریداری اور تیاری کا عمل فی الوقت ابتدائی مرحلے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان نوٹوں کے عام شہریوں کے لیے مکمل طور پر دستیاب ہونے کی حتمی تاریخ اور ان کے پروڈکشن اخراجات کے اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ پولیمر یا پلاسٹک نوٹ روایتی کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، پانی اور نمی سے محفوظ اور طویل مدتی استعمال کے قابل ہوتے ہیں۔
اسی پارلیمانی اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ملک میں مہنگائی اور خوراک کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ مہنگائی میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جو ۲۰۲۳-۲۴ میں ۵.۴ فیصد سے کم ہو کر ۲۰۲۵-۲۶ میں ۲.۱ فیصد پر آ گئی تھی۔ تاہم موجودہ مالیاتی سال کی پہلی سہ ماہی میں عالمی سطح پر مغربی ایشیا کے بحران، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ معمولی اضافے کے ساتھ ۳.۹ فیصد درج کی گئی ہے، جو اب بھی آر بی آئی کے مقررہ ۴ فیصد کے ہدف کے اندر ہے۔
حکومت نے عام شہریوں اور درمیانے طبقے کی قوت خرید اور قابل استعمال آمدنی کو سہارا دینے کے لیے متعدد مالیاتی اور ٹیکس اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔ ۵۶ ویں جی ایس ٹی کونسل میں ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بناتے ہوئے کئی بنیادی اشیائے خورد و نوش اور خدمات پر جی ایس ٹی کی شرحیں کم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل پر ایکزائز ڈیوٹی میں فی لیٹر ۱۰ روپے کی کمی، خام تیل کی برآمدات پر ڈیوٹی کی ایڈجسٹمنٹ اور ۱۲ لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے جیسے اقدامات سے عوام کو براہ راست راحت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال، مہنگائی کے دباؤ اور سپلائی چین پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ضرورت کے مطابق مناسب انتظامی اور مالیاتی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہیں گی تاکہ خصوصاً غریب اور درمیانے درجے کے خاندانوں کے معاشی مفادات اور خریدنے کی صلاحیت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔




