رام مندر نذرانہ چوری تنازعہ سپریم کورٹ پہنچا، عدالت عظمیٰ نے سیل بند لفافے میں مانگی جانچ رپورٹ

سپریم کورٹ نے رام مندر میں چندہ اور نذرانہ چوری کے سنگین الزامات پر دائر عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور رام مندر کا انتظام سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ اب تک کی جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ سیل بند لفافے میں عدالت کے سامنے پیش کرے۔ اس اہم ترین معاملے کی اگلی سماعت 20 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران مرکز اور اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کے سامنے موقف برقرار رکھنے کی کوشش کی اور رام مندر ٹرسٹ کو نوٹس جاری نہ کرنے یا اسے فی الحال ٹالنے کی اپیل کی۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ٹرسٹ کو بھی فریق بنانے اور جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب عرضی گزاروں کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جائے وقوعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ ڈیجیٹل ریکارڈز کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے تاکہ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عرضی گزاروں نے ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ کی کاپی انہیں بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جسے عدالت نے یہ کہتے ہوئے فی الحال مسترد کر دیا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی اور حساس مرحلے میں ہیں، لہذا اس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔

یہ پورا معاملہ اس وقت قانونی سرخیوں میں آیا جب ایڈووکیٹ نریندر کمار گوسوامی، اجئے کمار رائے اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ سمیت دیگر افراد نے رام مندر ٹرسٹ کے خلاف مجرمانہ رٹ پٹیشنز دائر کیں۔ ان دائر کردہ عرضیوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ مندر میں آنے والے کروڑوں روپے کے چندے اور نذرانے میں بڑے پیمانے پر خرد برد اور چوری کی گئی ہے، جس کی اعلیٰ سطح پر آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ اس سے قبل جب یہ معاملہ تعطیلاتی بنچ کے سامنے آیا تھا تو عدالت نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے اسے باقاعدہ سماعت کے لیے لسٹ کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد اب باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا ہے۔

اس عدالتی کارروائی کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ رام مندر سے کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات اور عوامی پیسہ وابستہ ہونے کی وجہ سے شفافیت کا یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چندے کی رقم میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا الزام براہ راست انتظامی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ مندر ٹرسٹ نے ان الزامات پر اب تک محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔

آئندہ 20 جولائی کو ہونے والی سماعت کو انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اسی دن یوپی حکومت کی ایس آئی ٹی اپنی خفیہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی۔ عدالت اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد طے کرے گی کہ آیا موجودہ انکوائری درست سمت میں جا رہی ہے یا اس معاملے کی جانچ سی بی آئی یا کسی دوسری آزاد ایجنسی کے سپرد کی جانی چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا اگلا قدم مندر کے مالیاتی انتظام اور سیکیورٹی پروٹوکول میں بڑی تبدیلیاں لانے کا سبب بن سکتا ہے۔

شیئر کریں۔