لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے نتائج اور اس کے بعد لاگو کیے گئے مہنگے فیس نظام پر مودی حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے پیر کے روز نئی دہلی میں بارہویں جماعت کے ان متاثرہ طلباء سے خصوصی ملاقات کی جنہوں نے اپنے امتحانی نمبروں اور بورڈ کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ اس تفصیلی ملاقات اور گفتگو کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے تعلیمی نظام میں شفافیت کے فقدان اور بورڈ کی مبینہ لوٹ کھسوٹ کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب تعلیم کو خدمت کے بجائے ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے، جہاں غلطی خود بورڈ کرتا ہے لیکن اس کا خمیازہ معصوم بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ملاقات کے دوران بارہویں جماعت کے طلباء نے اپوزیشن لیڈر کو بتایا کہ کس طرح سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم میں فاش غلطیاں سامنے آئی ہیں۔ بورڈ کی اس سنگین لاپرواہی کو درست کروانے کے لیے طلباء کو ہر قدم پر بھاری رقوم ادا کرنی پڑ رہی ہیں۔ راہل گاندھی نے اس ڈیجیٹل لوٹ مار کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈیجیٹل اسکین کاپی کے لیے سو روپے فی مضمون، ری-ٹوٹلنگ کے لیے سو روپے فی پیپر اور ری-ایویلیوایشن کے لیے پچیس روپے فی سوال وصول کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب سی بی ایس ای کی اپنی خامیوں کی وجہ سے بچوں کے نمبر غلط آ رہے ہیں تو ان کی تصحیح کے لیے طلباء کو انعام کے بجائے فیس کا ایک بھاری بل تھما دیا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایسے جیب کتروں سے ہوشیار رہیں جو آج سی بی ایس ای جیسے باوقار اداروں کے اندر بیٹھے ہیں۔
اس پورے تنازعے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو اس وقت سامنے آیا جب بارہویں جماعت کے ایک طالب علم ویدانت سریواستو نے راہل گاندھی کو اپنی بپتا سنائی۔ ویدانت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ اس وقت وائرل ہو گئی تھی جب اسے اپنی جوابی کاپی میں شدید گڑبڑی نظر آئی۔ طالب علم نے الزام لگایا کہ جب اس نے اپنی جوابی کاپیوں کی فوٹو کاپی حاصل کی تو معلوم ہوا کہ کاپی کا سرورق تو اس کا تھا اور تحریر بھی اس کی اپنی تھی، لیکن اندر کے کچھ صفحات پر لکھا ہوا مواد اس کا نہیں تھا، بلکہ ایسا لگتا تھا کہ صفحات کو بدلا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے درست جوابات تھے جن کی جانچ ہی نہیں کی گئی تھی اور بعض سوالات پر توقع سے انتہائی کم نمبر دیے گئے تھے۔
متاثرہ طالب علم ویدانت سریواستو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب اس نے سی بی ایس ای کے اس ناقص نظام اور ناانصافی کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی، تو حکمران جماعت کے حامیوں اور آئی ٹی سیل کی جانب سے اسے بدنام کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔ نظام میں موجود خامیوں کو درست کرنے کے بجائے الٹا اس پر ‘ملک دشمن’، ‘ڈیپ اسٹیٹ کا ایجنٹ’، ‘جارج سوروس کا ایجنٹ’ اور ‘پاکستانی’ ہونے کے گھناؤنے الزامات عائد کر دیے گئے۔ راہل گاندھی نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ویدانت کو مذاق میں ‘سوروس کا ایجنٹ’ کہا اور اس کی ہمت کی داد دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ باصلاحیت اور بہادر نوجوان سچے ہندوستانی ہیں جنہوں نے صرف ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا، لیکن مودی حکومت اور سی بی ایس ای نے جواب دینے کے بجائے ان کی توہین کی۔
ملک کے تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل پر اس نوعیت کے تنازعات کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں میڈیکل کے امتحانات میں این ٹی اے کے پیپر لیک کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، وہیں اب سی بی ایس ای کے مارکنگ سسٹم پر اٹھنے والے سوالات نے کروڑوں طلباء کے اعتماد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ جب تعلیمی اداروں کو تجارتی مراکز میں تبدیل کر دیا جائے تو وہاں اصلاحات نہیں کی جاتیں بلکہ بدعنوانی کو مزید بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ اپوزیشن ان کے روشن اور محفوظ مستقبل کی لڑائی پارلیمنٹ سے سڑکوں تک پوری طاقت کے ساتھ لڑے گی اور حکومت کو جوابدہ بنا کر رہے گی۔




