سڑکیں اور میٹرو حکومت نے بند کیں، تاجر وزیر اعظم سے جواب مانگیں: یکم نومبر کی مہاریلی پر راہل گاندھی کا دو ٹوک موقف

دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو منعقد ہونے والی کانگریس کی مجوزہ مہاریلی کے حوالے سے تاجر برادری کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات پر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے تاجروں کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کریں، جس کے تیس سیکنڈ کے اندر یہ احتجاجی تحریک خود بخود ختم ہو جائے گی۔ راہل گاندھی نے تاجر طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے باور کرایا کہ اگر جمہوریت میں ووٹ ہی محفوظ نہ رہے تو پھر شہریوں کی دکانیں، کاروبار، جمع پونجی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

اس معاملے کی ابتدا صدر بازار باری مارکیٹ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر پرمجیت سنگھ پمّا کی اس اپیل کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے دیوالی اور دیگر تہواروں کے تجارتی سیزن کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس قیادت سے ریلی ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاجر تنظیموں کا مؤقف تھا کہ چاندنی چوک، صدر بازار، کھاری باؤلی، فتح پوری اور آزاد مارکیٹ جیسے بڑے تھوک تجارتی مراکز میں ان دنوں ملک بھر سے خریدار آتے ہیں۔ ایسے حساس معاشی موقع پر اگر پولیس سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کر دے گی یا ٹریفک کے راستے تبدیل کرے گی تو اس سے خریداروں کی آمد رکے گی اور دکانداروں، دہاڑی دار مزدوروں اور ٹرانسپورٹرز کو کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاجروں کے اس مطالبے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مفصل جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن دہلی کے تمام کاروباریوں کے خدشات سے بخوبی واقف ہے اور ان کے دکھ درد کو سمجھتی ہے، تاہم عوام کی مشکلات کا اصل ذمہ دار حکومتی انتظام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی میں جب بھی کوئی جمہوری آواز بلند ہوتی ہے تو حکومت خود میٹرو اسٹیشنز بند کرتی ہے، راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے اور پوری راجدھانی کو تالابندی کی کیفیت میں دھکیل دیتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاجروں کو اپنی شکایات کا رخ اپوزیشن کے بجائے اس اقتدار کی طرف موڑنا چاہیے جو انتخابی شفافیت پر سمجھوتہ کر رہا ہے۔

کانگریس اور انڈیا اتحاد کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ووٹر لسٹوں کی حالیہ نظرثانی مہم کے دوران لاکھوں ووٹرز، بالخصوص کمزور طبقات اور اقلیتوں کے نام مبینہ طور پر انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن نے پیلی بھیت اور یوپی کے دیگر اضلاع میں سامنے آنے والی تکنیکی خامیوں کو انتخابی فراڈ قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ راہل گاندھی کے تازہ بیان نے واضح کر دیا ہے کہ یکم نومبر کا یہ اجتماع اب محض ایک روایتی سیاسی جلسہ نہیں رہا بلکہ انتخابی اداروں کی غیر جانبداری کے خلاف ایک فیصلہ کن عوامی ریفرنڈم بن چکا ہے۔

شیئر کریں۔