دیا جلانے کے لیے فنڈز ہیں تو طالبات کے ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں؟ راہل گاندھی

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک کے تعلیمی نظام، بنیادی ڈھانچے کے بحران اور طالبات کی اعلیٰ تعلیم میں حائل مالی رکاوٹوں کے حوالے سے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں طلبہ و نوجوانوں کے ساتھ اپنے مکالماتی پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طالبہ کے سوال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے براہِ راست جواب طلب کیا۔

راہل گاندھی کے مطابق، اندور میں منعقدہ گفتگو کے دوران گاؤں سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے شہر آنے والی ایک طالبہ نے سوال اٹھایا کہ حکومت کے پاس چراغاں اور تشہیری امور کے لیے تو فنڈز موجود ہیں لیکن طلبہ، بالخصوص لڑکیوں کے لیے محفوظ اور مناسب ہاسٹل کے وسائل کیوں فراہم نہیں کیے جاتے۔ طالبہ نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ہاسٹلز کی عدم دستیابی کے باعث نجی پی جی اور ہاسٹلز میں لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کرایوں کے بوجھ اور عدم تحفظ کے احساس کے سبب متعدد طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جب کہ سرکاری رہائشی الاؤنس مہنگائی کے تناسب سے نہیں بڑھتا اور مبینہ بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے اس پورے معاملے کو حکومتی ترجیحات کا بڑا بحران قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اندور سے قبل وہ کوٹا، پونے، پریاگ راج اور دہرادون جیسے اہم تعلیمی اور کوچنگ مراکز کا دورہ کر کے طلبہ کے مسائل سن چکے ہیں، جہاں روزگار، مسابقتی امتحانات میں شفافیت اور بنیادی سہولیات کے سنگین مسائل پائے جاتے ہیں۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ملک کے اداروں پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ذہین نوجوان بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ملک کے موجودہ تعلیمی منظرنامے میں پبلک ایجوکیشن سسٹم کی زبوں حالی اور نجی اداروں کے پھیلاؤ نے غریب اور متوسط خاندانوں کے لیے تعلیم کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ پسماندہ بستیوں اور اقلیتی و دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات کے لیے بڑے شہروں میں محفوظ اور سستی رہائش نہ ملنا ان کی تعلیمی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ جب عوامی فنڈز کو ترجیحی بنیادوں پر تعلیمی ڈھانچے اور وظائف میں خرچ کرنے کے بجائے نمائشی تقاریب پر صرف کیا جاتا ہے، تو اس کے براہ راست منفی اثرات سماجی مساوات اور خواتین کی خود مختاری پر پڑتے ہیں۔

شیئر کریں۔