‘اگر طلبہ سڑکوں پر ہیں تو اپوزیشن کو بھی سڑکوں پر ہونا چاہیے’: راہل گاندھی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مبینہ پرتشدد کارروائی اور پیپر لیک کے سنگین معاملے پر مرکزی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ملک کا مستقبل اور نوجوان طلبہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں، تو اپوزیشن کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ سڑکوں پر اترے۔ انہوں نے دہلی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ سے بلا مشروط معافی مانگنے کا مطالبات کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں راہل گاندھی نے صحافیوں کے سامنے پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہونے والے تشدد کے متعدد ویڈیوز اور مناظر پیش کیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح سیکیورٹی اہلکار پرامن مظاہرین کو لاٹھیوں سے نشانہ بنا رہے تھے، خواتین کو تھپڑ مارے جا رہے تھے اور مظاہرین پر ہتھیار تانے جا رہے تھے۔ انہوں نے اسپتالوں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال بھی کیا گیا ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اپنے مستقبل کی حفاظت کی مانگ کرنے والے معصوم طلبہ کے ساتھ اس طرح کا مجرمانہ اور بھیانک سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟

اپوزیشن لیڈر نے طلبہ کی تحریک اور ان کے تینوں اہم مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم عہدے پر فائز رہنے کے بالکل اہل نہیں ہیں اور انہیں فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جانا چاہیے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ گزشتہ دس سالوں میں تقریباً 152 بار مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے افشا (پیپر لیک) ہوئے ہیں، جس سے 7.5 کروڑ سے زائد طلبہ اور ان کے خاندان متاثر ہوئے ہیں، لیکن اس بدعنوان نظام میں ایک بھی مجرم کو سزا نہیں مل سکی۔

راہل گاندھی نے حکومت پر تعلیمی نظام کو تباہ کرنے اور امتحانات کو غریب و متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ NEET اور دیگر مسابقتی امتحانات کے نام پر ہندوستانی خاندانوں کی خون پسینے کی کمائی لوٹی جا رہی ہے، جبکہ بدلے میں انہیں پیپر لیک اور پولیس کے ڈنڈے ملتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب اپوزیشن نے اسپیکر اوم برلا کے سامنے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبات کیا تو حکومت نے اس سے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد مجبوراً انہیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینا پڑا جہاں انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔

جمہوریت اور انسانی حقوق کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت اور نوجوانوں کی آواز کو سننا کسی بھی جمہوری حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ طلبہ کی تحریکوں کو طاقت کے بل بوتے پر دبانے سے ملک کے نوجوانوں میں مایوسی اور غصہ مزید بڑھے گا، جس کا حل صرف شفاف تحقیقات، اصلاحات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی میں پنہاں ہے۔

اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اٹھاتی رہے گی۔ آئندہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس احتجاج میں مزید شدت لانے کے اشارے دیے گئے ہیں، جس سے حکمران جماعت پر تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات اور کارروائی کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔